خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 190
190 خطبہ جمعہ فرموده 9 مئی 2008 خطبات مسرور جلد ششم بین کے ایک ہمارے احمدی دوست الحاجی راجی ابراہیم صاحب نے کہا کہ ان کا ایک مسلمان دوست الحاجی ہے۔اس نے بڑی حیرت سے کہا کہ میں نے نیشنل ٹی وی پر آپ کے امام کا خطبہ جمعہ سنا ہے، جس میں انہوں نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی۔پھر قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے ان کو سنا۔میں نے تو عرصے سے یہی سنا ہے کہ احمدی نماز نہیں پڑھتے تو میں حیران ہوں کہ اتنا بڑا جھوٹ ہم روز سنتے رہے۔اب آپ کو نماز پڑھتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔تو ان دوروں کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ میڈیا کافی کوریج دے دیتا ہے۔اسی طرح ایک احمدی دوست کے ایک غیر احمدی دوست مجھ سے ملنے آئے، مختلف باتیں کرنے کے بعد کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کے خلیفہ اس کا یہ دورہ غیر معمولی برکات کا دورہ تھا۔غیروں کو بھی دوروں کی برکات نظر آ رہی ہیں۔پھر صدرمملکت کی مشیر خاص ایک خاتون الحاجه مادام گر اس لوانی ان کا نام ہے وہ وہاں مشن ہاؤس میں مجھے ملنے بھی آئی تھیں۔پھر ہمارے آنے کے بعد دوبارہ مشن ہاؤس گئیں اور وہاں جا کے کہا کہ میں ایک تو یہ پستہ کرنے آئی ہوں ، میرا پوچھا کہ وہ یہاں سے خوش گئے ہیں۔( وہ جمعہ پڑھنے بھی مسجد میں آئی تھیں ) دوسرے یہ بتانے کے لئے کہ میں نے زندگی میں ایسا جمعہ کبھی نہیں پڑھا۔میں نے اماموں کو دیکھا ہے۔قرآن کریم کی بہت ساری آیات پڑھ جاتے ہیں اور طوطے کی طرح پڑھتے چلے جاتے ہیں اور آگے نکلتے جاتے ہیں لیکن انہوں نے جس طرح قرآن کریم ہمیں سمجھایا ہے وہ میری روح اور دل کی گہرائیوں میں اتر گیا ہے۔میں نے اس طرح قرآن کریم سمجھاتے کسی کو نہیں سنا۔بہر حال وہ احمدیت کے کافی قریب ہیں اور امید ہے انشاء اللہ بیعت کرلیں گی۔بینین سے پھر واپسی نائیجیریا کی تھی۔جب ہم بارڈر پر پہنچے ہیں تو امیر صاحب نائیجریا نے کہا کہ راستے میں ایک نئی جگہ مسجد بنی ہے گو کہ وہاں جانا پروگرام میں شامل نہیں ہے۔مین سڑک سے بھی 10-12 میل اتر کر جانا پڑتا ہے وہاں ایک سختی کی نقاب کشائی کر دیں۔تو میں نے کہا ٹھیک ہے چلے جاتے ہیں۔وہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔نائیجیریا کے ساؤتھ کا جو علاقہ ہے اس میں پرانی جماعتیں قائم ہیں۔2004ء میں بھی جب میں گیا ہوں تو میں نے دیکھا ہے۔وہاں پھر ان کے اخلاص و وفا کا اندازہ ہوا، پہلے مجھے اندازہ نہیں تھا۔یہ لوگ بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔لگتا ہے ان کے اندر سے پیار پھوٹ رہا ہے۔بہر حال جب وہاں پہنچا تو میں نے بڑا شکر کیا کہ میں آ گیا۔امیر صاحب کی بات مان لی۔کیونکہ وہاں ساری جماعت انتظار میں کھڑی تھی۔ان کو یقین تھا کہ ضرور آؤں گا۔مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہر بچے ، بوڑھے، جو ان کی یہ خواہش تھی کہ مصافحہ کرے۔عورتیں بھی چاہتی تھیں کہ قریب سے ہو کر دیکھیں۔وقت کی کمی کی وجہ سے مصافحہ تو ممکن نہیں تھا لیکن جو زور لگا کر کر سکتے تھے، انہوں نے کر لیا۔اس رش میں ہمارے قافلے کے ایک ساتھی نے کسی عورت کو کہ دیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ، ایک وقت میں بڑا دباؤ پڑ گیا۔وہ عورت تو بڑی سیخ پا ہوئی۔لگتا تھا اس بات پر غصہ میں وہ اسے اٹھا کر باہر پھینک دے گی۔کہنے لگی تم کون ہو میرے اور خلیفہ وقت