خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 187
خطبات مسرور جلد ششم 187 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 مئی 2008 فصل میں برکت ڈالی اور ایسی برکت پڑی کہ نہ صرف ان 100 کے اخراجات پورے ہوئے بلکہ زائد آمد ہوئی اور 100 کی بجائے 103 افراد وہاں سے آئے۔پھر آئیوری کوسٹ کے ہی ایک گاؤں سے 57 افراد نے اس تاریخ ساز جلسے میں شرکت کی توفیق پائی۔ان میں 23 عورتیں بھی تھیں جنہوں نے قرض لے کر سفر کے اخراجات برداشت کئے۔یہ کہتی تھیں کہ ہمیں خدا کی رحمت سے امید ہے کہ ہمارے اس مبارک سفر کی برکت سے کھیتوں میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے گا اور اس قدرآمد ہو جائے گی کہ ہمارے قرض اتر جائیں اور ہماری دیگر ضروریات بھی پوری ہو جائیں۔پھر اب بچوں کا یہ حال دیکھیں کہ ایک ریجن کی دو بچیاں جن کی 12-13 سال کی عمر تھی اپنے حصے کے ٹرانسپورٹ اخراجات جمع کروانے آئیں اور کہا کہ جس روز سے خلیفہ اسیح کے غانا آنے کی خبر نہیں ملی ہے، اسی روز سے ہم نے ایک کھیت میں کام کرنا شروع کر دیا تھا کہ ہم جیسے غریب اور بے سرمایہ لوگ خلیفتہ ایسیح کے دیدار سے فیضیاب ہو سکیں اور اپنے سفر کے لئے محنت کر کے یہ پیسے کمائے ہیں۔یہ آپ رکھ لیں اور ہمارے سفر پر خرچ کریں۔آئیوری کوسٹ ہی کی ایک خاتون حبیبہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کے لئے آئیں۔وہ بڑی سخت بیمار تھیں۔ان کوٹی بی کی یا اس طرح کی کوئی اور۔ان کے بھائی اور خاوند نے بتایا کہ جب اپنے گاؤں سے جلسے کے لئے چلی ہیں تو اپنے گھر والوں کو انہوں نے کہہ دیا کہ میں اپنی بیماری کے باوجود خلافت جو بلی کے جلسے میں شرکت کرنے جارہی ہوں اور ہوسکتا ہے کہ ملاقات کے بعد میں واپس نہ آؤں اور مجھے لگتا ہے کہ میں واپس نہیں آؤں گی اس لئے میری غلطیاں معاف کر دو۔وہ شدید بیار تھیں اور وہاں آکر بیماری اور زیادہ بڑھ گئی۔سفر کی تھکان بھی تھی۔اسی بیماری کی حالت میں لمبا سفر اور گرمی کا سفر، بہر حال ان کی ملاقات ہو گئی تھی اور ایک دن کے بعد ان کی وفات ہوگئی ہمیں نے ان کا وہیں جنازہ پڑھایا اور وہ وہیں دفن بھی ہوئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ تو یہ عورتوں بچوں، بڑوں کی اخلاص و محبت کی چند مثالیں ہیں۔حالانکہ گھا نا آئے ہوئے وفدوں کے قصے میں نے سنائے قصے بھی طویل ہو گئے ہیں اور کافی وقت گزر گیا ہے، میرا خیال ہے میں نے 100 واں کیا، 200 واں اور 300 واں حصہ بھی بیان نہیں کیا ہوگا اور نہ بعض جذبات کا اظہار الفاظ میں ہو سکتا ہے۔گھانا والے بھی انتظار میں ہوں گے کہ اب ہمارا ذ کر نہیں ہورہا۔جلسہ تو گھانا کا تھا۔غانا کا ذکر تو میں اپنی تقریروں میں کر چکا ہوں کہ ان کا خلافت کے لئے جو پیار ہے اور سی محمدی کا جو عشق ہے وہ دوسروں کے لئے ایک مثال بن کر ہر دورہ پر بھرتا ہے۔پیار ومحبت کا ایک سمندر ہے جس کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔مجھے یاد ہے 1980ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے گھانا کا دورہ کیا۔میں ان دنوں وہاں تھا۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نائیجیریا سے غانا آئے تھے اور نائیجیریا میں بڑا شاندار استقبال تھا۔مکرم مسعود دہلوی صاحب