خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 186
خطبات مسرور جلد ششم 186 خطبه جمعه فرموده 9 مئی 2008 خوشی کا اظہار میرے بیان سے باہر ہے۔بعض کی خلافت سے محبت آنسوؤں کی شکل میں ان کی آنکھوں سے بہ رہی تھی۔بعض بد قسمت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے کیا دیا؟ وہ ان لوگوں کو دیکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خدا نے ان کے دلوں میں کیا انقلاب پیدا کر دیا ہے۔خلیفہ امسیح کے لئے بھی وہ محبت پیدا کر دی جس کے بیان کے الفاظ متحمل نہیں ہو سکتے۔گیمبیا سے 22 افراد کا ایک وفد آیا تھا جو غربت کی وجہ سے بائی ائیر (By Air) تو سفر نہیں کر سکتے تھے، بس کے ذریعہ ان لوگوں نے سفر کیا۔تین ملکوں سینیگال، مالی اور بورکینا فاسو، یہ بڑے بڑے ملک ہیں ان میں سے گزرتے ہوئے پانچ دن میں کوئی سات ہزار کلو میٹر کا سفر طے کر کے یہ گھانا پہنچے تھے اور سفر کی تکان سے بھی چور تھے۔سڑکیں بھی ان ملکوں میں کوئی ایسی اچھی نہیں ہیں۔بسوں کا معیار بھی کوئی ایسا اچھا نہیں ہے۔جنہوں نے کبھی افریقہ کا سفر کیا ہو ان کو پتہ ہے۔لیکن جب یہ لوگ جلسہ گاہ پہنچے تو بجائے آرام کی جگہ تلاش کرنے کے یہ سیدھے نماز کی جگہ پہنچے کیونکہ اس وقت نماز کا وقت تھا اور وہاں کسی کے چہرے سے یہ عیاں نہیں تھا ، یہ ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ یہ غلامان مسیح محمدی کسی لہے اور تھکا دینے والے سفر سے ابھی پہنچے ہیں تفصیلی رپورٹس بعد میں الفضل میں آتی جائیں گی۔جن کو موقع ملے وہ پڑھیں۔پھر آئیوری کوسٹ سے بھی تقریباً ایک ہزار سے اوپر افراد کا قافلہ لمبے اور تھکا دینے والے سفر کے بعد گھانا پہنچا، لیکن اخلاص فدائیت اور محبت نے ان کے چہروں پر کسی قسم کی تھکان کے آثار نہیں آنے دیئے۔اللہ تعالیٰ نے بعض مقامی احمدیوں کو یہ بھی توفیق دی کہ انہوں نے کئی کئی غریب احمدیوں کا سفر خرچ بھی برداشت کیا ، ان کی حالت کو دیکھ کر جو تڑپ رہے تھے کہ جلسے پر جائیں۔ان کی وہی کیفیت تھی کہ جب زاد سفر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں انکار کیا گیا تو ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔کون ہے جو ان لوگوں کے اخلاص و محبت کا مقابلہ کر سکے؟ پھر خلافت جو بلی کے جلسے میں شامل ہونے کے لئے ان غریبوں نے کیا کیا طریقے اختیار کئے ؟ اس کے بھی ایک دو واقعات سن لیں۔اپینگر و ریجن آئیوری کوسٹ کی ایک جماعت نے عزم کیا کہ کیونکہ خلافت کے سو سال مکمل ہو رہے ہیں تو اس مناسبت سے ہمارے گاؤں سے 100 افراد کا وفد جلسہ سالانہ غانا میں شرکت کرے گا۔یہ انتہائی غریب لوگ ہیں لیکن ان کے عزم کے سامنے پہاڑ بھی بیچ تھے۔انہوں نے ارادہ کیا کہ جلسہ سالانہ غانا سے چھ ماہ قبل ایک کھیت اس مقصد کے لئے تیار کریں گے اور اس کی ساری آمد جلسہ سالانہ غانا کے لئے ٹرانسپورٹ پر خرچ کریں گے۔تو انہوں نے کچھ فصل ہوئی۔اللہ تعالیٰ بھی پھر ایسے مخلصین کے کاموں پر پیار کی نظر کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی