خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 185
خطبات مسرور جلد ششم 185 خطبه جمعه فرموده 9 مئی 2008 وہاں کے صدر خدام الاحمدیہ عبدالرحمن صاحب نے کسی کے پوچھنے پر کہا کہ ابتدائی مسلمانوں نے اسلام کی خاطر بے حد قربانیاں کیں۔ہم یہ چاہتے تھے کہ ہمارے خدام بھی ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہوں اور ہماری خواہش تھی کہ خلافت جو بلی کے سلسلے میں کوئی ایسا خاص کام کیا جائے جس سے خلافت کے ساتھ ہمارے اخلاص اور وفا کا اظہار ہو اور ہم خلیفہ وقت کو بتائیں کہ ہم ہر قربانی کے لئے تیار ہیں اور ہر چیلنج کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ ہم نے سائیکل سفر کے ذریعہ جلسہ غانا میں شمولیت کی تحریک کی جس پر خدام نے لبیک کہا اور 1435 خدام نے اپنے نام پیش کئے۔لیکن بعض انتظامی وقتوں کی وجہ سے 300 کا انتخاب کیا گیا۔یہ سائیکل سوار بڑے اعلیٰ اور نئے سائیکلوں پر سفر نہیں کر رہے تھے بلکہ پرانے زنگ آلود سائیکل کسی کی بریکیں نہیں ہیں کسی کے ٹائر گھسے ہوئے ہیں لیکن جوش و جذ بہ تھا۔خلافت احمدیہ کے لئے اخلاص اور محبت تھی اور ہے۔اس دائگی خلافت کے لئے جس کی پیشگوئی آنحضرت نے فرمائی تھی۔میڈیا نے بھی اس کو دیکھا اور کوریج دی۔میڈیا نے اس کو کس طرح دیکھا؟ ٹی وی کے نمائندے نے ان سے پوچھا، جب یہ سائیکل سوار سفر شروع کرنے لگے تھے کہ سائیکل تو بہت خستہ حال ہیں یہ کس طرح اتنا بڑا سفر کر سکتے ہیں۔تو جماعتی نمائندے نے ان سے کہا کہ اگر چہ سائیکل خستہ ہیں لیکن ایمان اور عزم بڑا ہے کہ ہم خلافت کے انعام کے شکرانے کے طور پر یہ سفر اختیار کر رہے ہیں۔اور نیشنل ٹی وی نے جب یہ خبر نشر کی تو اس کا آغاز اس طرح کیا کہ اللہ کی خاطر خلافت جوبلی کے لئے وا گا سے اکرا کا سائیکل سفر۔اگر چہ سائیکل خستہ ہیں لیکن ایمان بہت ہی مضبوط “۔پھر ٹی وی نے ان سائیکلوں کی حالت بھی دکھائی کہ کس طرح خستہ حال سائیکل ہیں۔اور کچھ خدام سے سوال بھی پوچھے کہ کیوں جا رہے ہیں؟ ایک خادم نے جواب دیا کہ اپنے خلیفہ سے ملنے کے لئے جا رہا ہوں۔دوسرے نے کہا کہ احمد یہ خلافت جوبلی کی سو سالہ تقریبات میں ہمارے خلیفہ آ رہے ہیں اس میں شامل ہونے کے لئے جارہا ہوں۔تو یہ ہیں ان کے جذبات۔اور یہ احمدی کوئی پیدائشی احمدی نہیں ہیں۔کوئی صحابہ کی اولاد میں سے نہیں ہیں۔بلکہ ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے بعض ایسے علاقوں کے رہنے والے ہیں جہاں کچی سڑکیں ہیں اور ان لوگوں نے چند سال پہلے احمدیت قبول کی ہے۔ایسی جگہوں پر رہنے والے ہیں جہاں بجلی پانی کی سہولت بھی نہیں ہے۔اب کہیں بعض جگہوں پر کنکشن لگ رہے ہیں تا کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے رابطے رہیں۔بعض جگہ غربت و افلاس نے ان کو بے حال کیا ہوا ہے لیکن حضرت محمد مصطفی اس اللہ کے غلام صادق کی جماعت میں شامل ہو کر وہ اخلاص ان میں پیدا ہو گیا ہے کہ جہاں دین کا سوال پیدا ہو وہاں ان کے عزم چٹانوں کی طرح مضبوط ہیں اور ہر قربانی کے لئے تیار ہیں اور محبت سے لبریز ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص و وفا کو بڑھاتا چلا جائے۔بورکینا فاسو کے ایک دوست عیسی سیاما صاحب نے کہا کہ میں نے 2005ء میں بیعت کی ہے۔یعنی صرف 3 سال پہلے احمدی ہوئے ہیں۔مجھے آج پتہ چلا ہے کہ میں کیا ہوں اور کتنا خوش قسمت ہوں اور میں نے کیا پایا ، اپنی