خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 183
183 خطبہ جمعہ فرموده 9 مئی 2008 خطبات مسرور جلد ششم محبت اور وفا سے طبیعت میں ایک حیرانی اور تعجب پیدا ہوتا ہے جو ان سے وقتاً فوقتاً صادر ہوتی رہتی ہے۔یا جس کے آثاران کے چہروں سے عیاں ہوتے ہیں۔وہ اپنے ایمان کے ایسے پکے اور یقین کے ایسے بچے اور صدق وثبات کے ایسے مخلص اور با وفا ہوتے ہیں کہ اگر ان مال و دولت کے بندوں، ان دنیوی لذات کے دلدا دوں کو اس لذت کا علم ہو جائے تو اس کے بدلے میں یہ سب کچھ دینے کو تیار ہو جاویں“۔( ملفوظات جلد 10 صفحہ 306-307) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق ایسے محبت کرنے والے عطا فرمائے جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خلافت کے تعلق میں یہ فرمایا کہ یہ وعدہ تمہاری نسبت ہے۔تو پھر بعد میں آنے والوں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت کے ساتھ خلافت کی محبت بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دی اور افریقہ کے اِن روشن دلوں کی محبت آپ نے دیکھ بھی لی۔اب میں مختصر اً چند واقعات بتا دیتا ہوں۔میرا سب سے پہلا دورہ غانا کا تھا۔غانا کا استقبال ائر پورٹ پر آپ نے دیکھ ہی لیا ہے۔رات ہونے کی وجہ سے احمدیوں کا جوش تو کیمرہ آپ کو دکھا سکا ہوگا لیکن ان آنکھوں کی محبت جو وہاں موجود تھے صرف وہاں موجود ہی دیکھ سکے۔اکرا جو اُن کا دارالحکومت ہے، ہمارا ہیڈ کوارٹر بھی وہیں ہے۔وہیں میں پہلے گیا تھا۔لیکن جلسہ وہاں سے تقریباً 30-40 میل کے فاصلے پر ایک نئی جگہ پر منعقد ہونا تھا۔اس لئے ہم اگلے روز اس نئی جگہ باغ احمد میں چلے گئے۔جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں ، اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ بڑی با موقع 1460 یکٹر زمین عین ہائی وے کے اوپر اس نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔یہاں جب میں پہنچا ہوں تو اکثریت احباب و خواتین کی پہنچ چکی۔ایک شہر بسا ہوا تھا۔غانا جماعت نے اس زمین کو بڑا ڈویلپ (Develop) کیا ہے۔پلانگ کر کے سڑکیں وغیرہ بنائی ہیں اور ہر جگہ سے وہاں آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔سارے علاقے کی جھاڑیاں ، گھاس وغیرہ صاف کیا ہوا تھا۔ان افریقن ملکوں کی زمین بڑی زرخیز ہے۔ذراسی بارش ہو تو فورا سبزہ ہو جاتا ہے جس طرح یہاں یورپ میں ہے۔یہ جو نئی جگہ خریدی گئی ہے، یہ ایک بہت پرانا اور بڑا پولٹری فارم تھا۔اس میں شیڈ وغیرہ بھی بنے ہوئے ہیں۔انہیں صاف کر کے، فرش وغیرہ بھی نئے بنا کر ، کچھ کھڑکیاں دروازے لگا کر رہائش کے لئے بیرکس بن گئی تھیں۔لیکن اگر جگہ کی تنگی تھی تو کسی نے شکوہ نہیں کیا کیونکہ بہت بڑی تعداد میں احمدی وہاں آئے تھے۔بہت سارے اچھے بھلے کھاتے پیتے، کاروباری لوگ یا سکول ٹیچر زیاد دوسرے کام کرنے والے، اگر ان کو رہائش نہیں ملی تو باہر صف بچھا کر آرام سے سو گئے۔ان لوگوں میں اس لحاظ سے بڑا صبر ہے۔مجھے کسی نے بتایا کہ انہوں نے ایک دو ایسے لوگوں سے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ ہم جلسہ سننے آئے