خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 182 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 182

182 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 9 مئی 2008 فرمایا تھا کہ میں تجھے زمین کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دوں گا اور تیرا ذکر بلند کروں گا اور تیری محبت دلوں میں ڈال دوں گا۔ہر روز ایک نئی شان سے ہم اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو پورا ہوتا ہوا د یکھتے ہیں اور ایک دنیا گواہ ہے کہ افریقہ کے اس دورہ میں خاص شان کے ساتھ ہم نے اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو پورا ہوتے دیکھا۔کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔کوئی مبالغہ نہیں ہے۔کیمرے کی آنکھ نے ٹی وی کی سکرین پر ایک دنیا کو دکھا دیا اور روز روشن کی طرح دکھا دیا کہ افریقہ کے لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کو عزت کے ساتھ اپنے دلوں میں بٹھائے ہوئے ہیں اپنے مخصوص انداز میں جب غلام احمد کی جے“ کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو عزت کے ساتھ شہرت کا وعدہ ایک خاص شان سے پورا ہوتا ہوا ہمیں نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ میں تیرا ذکر بلند کروں گا، ایک نئے انداز میں نعروں کی صورت میں فضاؤں میں ارتعاش پیدا کرتا ہے۔نورایمان میں بڑھے ہوئے اور بھرے ہوئے افریقنوں کے دلوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ اللہ کی محبت کے سوتے پھوٹ رہے ہوتے ہیں۔کیا کوئی انسانی کوشش یہ محبت دلوں میں ڈال سکتی ہے؟ کیا چہروں کی رونقیں اور آنکھوں سے پیار اور محبت کی چھلک کسی دنیاوی لالچ کا نتیجہ ہوسکتی ہے؟۔کہتے ہیں کہ غریبوں کو لالچ دو تو جو چاہے کر والو۔لیکن لالچ کبھی محبتیں نہیں پیدا کر سکتی۔ان غریبوں کے پاس بظاہر دنیاوی دولت تو نہیں ہے لیکن ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں۔ان کو جتنا چاہے لالچ دے لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت ان کے دلوں سے نہیں نکال سکتے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے آقا محمد رسول اللہ اللہ سے محبت کی وجہ سے ان کو جو خلافت احمدیہ سے محبت ہے دنیا کی بڑی سے بڑی محبت بھی اس کے پاسنگ بھی نہیں ہے۔پس یہ ہے ہمارا خدا ، جس نے احمدیوں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت کی وجہ سے خلافت کی محبت سے بھی احمدیوں کو سرتا پا بھر دیا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ افریقہ کے احمدی اس کی روشن مثال بنتے جارہے ہیں۔اللہ کرے کہ یہ جبیں آگے محبتوں کی جاگیں لگاتی چلی جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” انبیاء کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اور ضعیف لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔بڑے بڑے لوگ اس سعادت سے محروم ہی رہ جاتے ہیں۔اُن کے دلوں میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو اُن باتوں سے پہلے ہی فارغ التحصیل سمجھے بیٹھے ہوتے ہیں۔اپنی بڑائی اور پوشیدہ کبر اور مشیخت کی وجہ سے ایسے حلقے میں بیٹھنا بھی ہتک اور باعث ننگ و عار جانتے ہیں جس میں غریب لوگ مخلص، کمزور مگر خدا تعالیٰ کے پیارے لوگ جمع ہوتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ صد ہا لوگ ایسے بھی ہماری جماعت میں داخل ہیں جن کے بدن پر مشکل سے لباس بھی ہوتا ہے۔مشکل سے چادر یا پاجامہ بھی ان کو میسر آتا ہے۔ان کی کوئی جائیداد نہیں مگر ان کے لا انتہا اخلاص اور ارادت سے