خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 177

177 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 2 مئی 2008 ان کے جب دوسرے اعمال دیکھو، ان کے جب دوسرے اخلاق دیکھو تو بعض دفعہ ایک لا مذہب ان سے زیادہ اخلاق والا نظر آتا ہے۔یہاں بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ نماز نے تو بظاہر کوئی نیکی پیدا نہیں کی پھر نمازیں پڑھنے کا کیا فائدہ؟ تو یہاں یہ سمجھنا چاہئے کہ نماز کا قصور نہیں بلکہ ان نمازیوں کا قصور ہے جو نماز کو اس کی شرائط کے ساتھ ادا نہیں کرتے۔اس لئے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نماز برائیوں سے روکتی ہے تو اس سے پہلے فرمایا کہ اقسم الصلوۃ کہ نماز کو اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کر و۔جب نمازیں اپنی شرائط کے ساتھ ادا کی جائیں گی تو پھر بے حیائیوں اور بری باتوں سے روکیں گی۔نماز کی بہت سی شرائط ہیں۔وضو کرنا، پاک صاف ہونا، مردوں کے لئے مسجد میں آ کر نماز پڑھنا، خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونا۔آنحضرت نے اس بارہ میں ایک انتہائی اہم بات کی طرف توجہ دلائی اور وہ یہ کہ جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو یہ خیال ہو کہ تم خدا کو دیکھ رہے ہو یا کم از کم اتنا ہو کہ یہ خیال رہے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔وہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے جو میرے دل اور دماغ کے اندرونے حصے تک، گہرائی تک واقف ہے۔کوئی خیال میرے دل میں نہیں آتا لیکن میرا خدا اس سے پہلے اس خیال کا علم رکھتا ہے۔ہمارا خدا وہ خدا ہے جس کو کبھی دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔اس خدا کو پتہ ہے کہ کون سی نماز خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی خاطر اور اپنے نفسوں کو پاک کرنے کے لئے پڑھی جا رہی ہے اور کون سی نماز صرف دکھاوے کی خاطر پڑھی جا رہی ہے۔پس جو نمازیں خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی خاطر پڑھی جائیں وہی مقبول نمازیں ہیں۔وہی ایسی نمازیں ہیں جو دلوں کی صفائی کرتی ہیں۔وہی ایسی نمازیں ہیں جو بے حیائیوں سے روکتی ہیں۔پس احمدی جب نماز پڑھے تو ایسی نماز کی تلاش کرے۔ورنہ بظاہر چاہے جتنا بڑا کوئی نیک آدمی نظر آتا ہوا گر اس کا ہر عمل خدا تعالیٰ کے خوف کو لئے ہوئے نہیں تو اس کی نمازیں بھی خدا تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔بلکہ اس کے ظاہری عمل اور قول اور اس کے دل کی اندرونی حالت میں اختلاف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسی نمازیں پڑھنے والوں کی نمازیں بجائے اصلاح کے ان کے لئے ہلاکت کا ذریعہ بنا دیتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَوَيْلُ لِلْمُصَلِّينَ ( الماعون : 5 ) پس ان نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے۔کون سے نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے؟ فرمایا الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون : 6 ) جو اپنی نمازوں سے غافل ہوتے ہیں۔بظاہر تو نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن دل دنیا داری میں لگے ہوتے ہیں۔بظاہر تو حج بھی کئے ہوتے ہیں لیکن یہ نمازیں اور حج ان میں پاک تبدیلیاں پیدا نہیں کرتے۔وہ اپنی عملی زندگی میں بھول جاتے ہیں کہ خدا انہیں صرف نمازوں ہی میں نہیں دیکھ رہا بلکہ عام زندگی میں بھی خدا تعالیٰ انسان کی زندگی کے ہر قول اور فعل کا علم رکھنے والا ہے۔پس نمازوں کی مقبولیت کے لئے اپنے ہر فعل کو درست کرنا ضروری ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے دل کی اندرونی حالت اور تمہارے عمل ایک جیسے نہیں تو ان لوگوں میں شامل ہو گے، ان کے زمرے میں آؤ گے جو الَّذِيْنَ هُمْ يُرَاءُ وْنَ (الماعون : 7 ) یعنی وہ جو صرف دکھاوے سے کام لیتے ہیں اور دکھاوے سے کام لینے والوں کی