خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 176 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 176

176 خطبہ جمعہ فرموده 2 مئی 2008 خطبات مسرور جلد ششم کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔اپنے بندے کی کوشش کو قبول فرماتا ہے۔اسے اپنے فضل سے نوازتا ہے۔اس سے ایسے کام کرواتا ہے جو اس کی رضا کے کام ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا (العنکبوت: 70) یعنی وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ضرور ان کو اپنے راستے کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”اپنے نفس کی تبدیلی کے واسطے سعی کرو۔نماز میں دعائیں مانگو۔صدقات ، خیرات سے اور دوسرے ہر طرح کے حیلے سے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا میں شامل ہو جاؤ۔جس طرح بیمار طبیب کے پاس جاتا ، دوائی کھاتا، مسہل لیتا، خون نکلواتا ٹکور کرواتا ہے اور شفا حاصل کرنے کے واسطے ہر طرح کی تدبیر کرتا ہے۔اسی طرح اپنی روحانی بیماریوں کو دور کرنے کے واسطے ہر طرح کی کوشش کرو۔صرف زبان سے نہیں بلکہ مجاہدہ کے جس قدر طریق خدا تعالیٰ نے فرمائے ہیں ، وہ سب بجالاؤ“۔( بدر جلد 1 نمبر 34 مورخہ 8 نومبر 1905 صفحہ 4-3) پس یہ کام ہے جو بیعت کرنے کے بعد ایک احمدی مسلمان کو کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔یہ جلسہ بھی ان طریقوں میں سے، ان ذریعوں میں سے جو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والے اور پاک تبدیلی پیدا کرنے والے ذریعے ہیں، ایک ذریعہ ہے۔ہمارا آج یہاں جمع ہونا اور بڑی تعداد میں جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے کے بعد مجاہدہ کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔پس ان تین دنوں میں اس مقصد کے حصول کے لئے ہر احمدی خاص طور پر کوشش کرے تبھی یہاں جمع ہونے کے مقصد کو پورا کرسکیں گے۔اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کا سب سے اہم ذریعہ نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب فرمایا کہ اپنے نفس کی تبدیلی کے لئے کوشش کرو تو سب سے پہلے نماز کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ نماز میں دعائیں مانگو۔کیونکہ جب انسان خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیک خواہشات کو قبول فرماتے ہوئے اس میں پاک تبدیلیاں پیدا فرماتا ہے۔لغو اور غلط کاموں سے انسان بچتا ہے۔نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔اس بارے میں خود اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَر (العنکبوت : 46 ) یعنی نماز سب بُری اور نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ نماز بری اور نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔لیکن کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ماحول میں دیکھتے ہیں کہ بظاہر بڑے نماز پڑھنے والے لوگ ، ایسے لوگ جو جج بھی کر آتے ہیں،