خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 175 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 175

خطبات مسرور جلد ششم 18 175 خطبہ جمعہ فرموده 2 مئی 2008 فرمودہ مورخہ 2 مئی 2008ء بمطابق 2 ہجرت 1387 ہجری شمسی بمقام حدیقہ احمد ابوجہ نائیجیریا) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ نائیجیریا کا 58 واں جلسہ سالانہ میرے اس خطبہ کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔ہم پر یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس زمانے میں جب دنیا کی اکثریت خدا تعالیٰ کو بھول بیٹھی ہے احمدی خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہر ملک میں جلسے کرتے ہیں اور سال میں ایک دفعہ چند دن کے لئے اس لئے جمع ہوتے ہیں کہ اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔یہ انقلاب ہے جس کے بر پا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا میں بھیجا۔اگر ہم اپنے اندر یہ انقلاب لانے والے نہیں، اگر ہم آج اس مقصد کے لئے جمع نہیں ہوئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں فرمایا ہے تو پھر اس جلسے کا کوئی فائدہ نہیں۔آپ نے بڑے واضح الفاظ میں فرمایا کہ مجھے کوئی شوق نہیں کہ میلے کا ماحول پیدا کروں اور لوگوں کو جمع کر کے دنیا کو اپنی طاقت بتاؤں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ سوچ اور خیال ایسے ہیں جن سے مجھے کراہت آتی ہے۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا یہاں جلسے پر تقریریں ہوتی ہیں۔بڑے بڑے مقرر تقریریں کرتے ہیں۔بڑی علمی باتیں ہوتی ہیں۔لوگ یہ باتیں سن کر مقررین کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ان تقریروں اور مقررین کی ان اعلی علمی باتوں کا کیا فائدہ؟ اگر جماعت کے دلوں پر اس کا اثر نہ ہو۔پس ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے ہیں، اس لئے آج یہاں جمع ہیں کہ جو باتیں ہم سنیں انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنا ئیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ اپنی زندگیوں کو اس معیار پر لانے کی کوشش کریں جس معیار پر آنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے توقع رکھتے ہیں اور وہ معیار ہم حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہم پر نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کے لئے بھی ایک مجاہدے کی ضرورت ہے ، ایک کوشش کی ضرورت ہے۔ایسی کوشش کہ جب اللہ تعالیٰ اپنا خاص فضل فرماتے ہوئے اپنے بندے