خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 171
171 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اپریل 2008 خطبات مسرور جلد ششم بغیر ہر راستے پر بیٹھے شیطان نے انسان کو ورغلانا ہے۔شیطان نے تو پہلے دن سے کہہ دیا تھا کہ جس فطرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہے وہ ہمیشہ دنیا داری کی طرف اور لالچ کی طرف جھکتا چلا جائے گا۔اس نے یہ اعلان کیا تھا کہ انسان میری باتیں مانیں گے۔عارضی خواہشات اور دنیا داری ان انسانوں کو اللہ تعالیٰ سے دور لے جائے گی اور اکثریت خدا تعالیٰ کی ناشکر گزار ہو گی۔اللہ تعالیٰ نے شیطان کو یہی کہا تھا کہ ایسے ایمان ضائع کرنے والے اور ناشکر گزارلوگوں سے میں جہنم کو بھر دوں گا۔پس ایک مومن کے لئے یہ دنیا ایسی ہے جس میں بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے ، اپنے ایمانوں کی حفاظت کی ضرورت ہے اور ایمان کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکے بغیر ناممکن ہے۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ عباد الرحمن بنے۔اُس رحمن خدا کے آگے جھکنے والا بنے جس نے بے شمارا انعامات سے ہمیں نوازا ہے۔ان انعامات میں سے آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خوبصورت مسجد ہمیں عطا فرمائی ہے۔ہر مسجد کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہم خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کے لئے یہاں جمع ہوں۔پس شکر گزاری کا ایک بہت بڑا طریق یہ ہے کہ اس مسجد کو ہمیشہ آباد کرنے کی طرف ہماری توجہ رہے۔جماعت کی ہر مسجد ہمیں آباد نظر آنی چاہئے اور مسجد کی آبادی کیا ہے؟ جیسا کہ میں نے کہا مسجد کی آبادی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے پانچ وقت مسجد میں آنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لئے مسجد میں حاضر ہونا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ مسجد میں آ کر نماز پڑھنے کا ثواب 27 گنا زیادہ ہے۔اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ مسجد بنانے کا حق تبھی ادا ہو گا جب اس نیت سے آیا جائے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے جمع ہونا ہے تو پھر ہی حقیقی ثواب ہو گا۔تبھی ایک مومن اپنی پیدائش کے حق کو ادا کرنے والا کہلائے گا۔اس مقصد کو پورا کرنے والا کہلائے گا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57 ) کہ میں نے جنوں اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔پس چاہے کوئی بڑے رتبے والا آدمی ہے، بڑے جاہ و جلال والا آدمی ہے، کوئی بہت امیر آدمی ہے یا کوئی غریب آدمی ہے، اللہ تعالیٰ نے دونوں طرح کے لوگوں کی پیدائش کا مقصد یہی بیان فرمایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور یہ مساجد اسی لئے ہیں کہ تا تمام امیر وغریب ایک جگہ جمع ہوں اور تمام دنیاوی رشتوں کو ایک طرف رکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور عبادت کے لئے صف بستہ ہو جائیں تا کہ ایک جان ہو کر، ایک جماعت ہوکر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور اس کا فضل تلاش کریں اور جب اس طرح ایک جان ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے تا کہ اس کے فضلوں کی بارش پہلے سے بڑھ کر ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ایسی عبادتوں کا ثواب 7 2 گنا بڑھا دیتا ہے۔اگر دل میں یہ