خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 156

156 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 11 اپریل 2008 بدانجام اور آفات سے محفوظ رہے۔دوسرے ایک مومن کے سفر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی شکر گزاری کے طور پر ہوتے ہیں۔ان دعاؤں سے ایک مومن اپنا سفر شروع کرتا ہے اور اس کا اختتام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن کریم میں سکھائی ہیں۔اس اُسوہ پر ایک مومن چلنے کی کوشش کرتا ہے جو آنحضرت ﷺ نے قائم فرمایا۔اُن نصائح پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کی ایک حقیقی مسلمان سے آنحضرت نے توقع رکھتے ہوئے نصیحت کی ہے۔پس ایک مومن کے ہر دوسرے عمل کی طرح اس کا سفر بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوتا ہے اور نیکیوں کو قائم رکھنے اور قائم کرنے کے لئے ہوتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوى (البقرة:198) زادِراہ ساتھ لو اور بہترین زادہ راہ تقویٰ ہے۔قرآن کریم کے یہ الفاظ اس آیت میں ہیں جس میں حج کے حوالے سے بات کی گئی ہے کہ جب اس رکن اسلام کی ادائیگی کے لئے نکل تو پھر ہمیشہ یادرکھو کہ حقیقی مومن وہی ہے جو ہر قسم کی نفسانی بیماریوں سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے، نیکیوں پر قدم مارتے ہوئے ، اس پاک فریضے کو سرانجام دینے کے لئے گھر سے نکلتا اور کوشش کرتا ہے۔اور جو سفر کا سامان تم ساتھ لے کر نکلو، جو عمل تمہارے ہوں اس میں تقویٰ ہوگا تو حج بھی قبولیت کا درجہ پائے گا۔لیکن یہ مومن کے لئے ایک عمومی حکم بھی ہے کہ ہمیشہ یا درکھو کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔مومنوں کے سفر اعلیٰ ترین نیکیاں کمانے کے مقصد کے لئے ہوں یا عام سفر۔ہر صورت میں یاد رکھو کہ سفر وہی اللہ تعالیٰ کی برکات کا حامل بنائے گا جس میں تقویٰ مدنظر ہو گا، جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے نیک اعمال کی بجا آوری کی کوشش مد نظر ہوگی۔پس اگر سفروں سے برکات حاصل کرنی ہیں تو تقویٰ بنیادی شرط ہے۔اسے ہر وقت مومن کو مدنظر رکھنا چاہئے۔اگر یہ مد نظر رہے گا تو دنیاوی فائدوں کے حصول کے لئے بھی جو سفر ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن جائیں گے۔پس یہی سفر ہیں جو مومن کی شان ہیں اور ہونے چاہئیں۔جب ایک مسلمان زادِ راہ کو حقیقت میں اپنے ساتھ رکھتا ہے یعنی تقویٰ کی زاد راہ کو تو پھر وہ مومنین کی اس صف میں کھڑا ہو جاتا ہے جن کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے سچے مومن ہونے کی بشارت دی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلتَّائِبُوْنَ الْعِبِدُوْنَ الْحَمِدُوْنَ السَّائِحُوْنَ الرَّحِعُوْنَ السَّجِدُوْنَ الْأَمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَفِظُوْنَ لِحُدُودِ اللهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (التوبة: 112) کہ تو بہ کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے، خدا کی راہ میں سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کا حکم دینے والے، بری باتوں سے روکنے والے اور اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنے والے، سب سچے مومن ہیں اور تو مومنوں کو بشارت دے دے۔تو تقویٰ پر چلنے کے لئے پہلی شرط تو بہ کرنا ہے۔ایسی بچی تو بہ جو اس میں اور گناہوں میں یعنی ایک مومن میں اور گناہوں میں دُوری پیدا کرتی چلی جائے۔