خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 154 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 154

154 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 4 اپریل 2008 تعالیٰ کے حکموں پر اپنے آپ کو چلانے کی کوشش کرے گا۔یہ کہیں نہیں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جس کا مشاعرہ اچھا ہوگا یا جس کے دوسرے پروگرام اچھے ہوں گے وہی جماعت ترقی کرے گی اور فیض پائے گی بلکہ عبادات اور نیک اعمال اس کی شرط ہیں۔پس اس لحاظ سے ہمیں اپنے جائزے لیتے رہنا چاہئے۔اس طرف توجہ دلانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا ان باتوں کی جگالی کرتے رہنا چاہئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں ہمیں یہ سب نیکی کی باتیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام بڑی وضاحت کے ساتھ ملتے ہیں۔لیکن ایک تو اکثر کتب اُردو میں ہیں، بہت کم حصہ ترجمہ ہوا ہوا ہے۔دوسرے اُردو پڑھنے والوں کی بھی عموماً پڑھنے کی طرف توجہ کم رہتی ہے۔اس لئے عام طور پر اقتباس پیش کرنے کا میرا بڑا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ جو راہنمائی ملے وہ تو ہے ہی۔لیکن ایک مقصد یہ بھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں جو باتیں ہیں یا آپ کے الفاظ ہیں وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں۔کیونکہ اب اصل تو یہی ہے جس پر قرآن وحدیث کی تشریحوں اور تفسیروں کی بنیاد ہے۔جیسا میں نے کہا کہ بہت کم ترجمہ شدہ کتابیں ہیں گو کہ اب یہ کام بڑی تیزی سے ما شاء اللہ ہورہا ہے اور مرکز ربوہ میں وکالت تصنیف کے وکیل جو ہیں مکرم و محترم چوہدری محمد علی صاحب بڑی محنت سے یہ انگلش ترجمے کے کام کر بھی رہے ہیں اور کروا بھی رہے ہیں۔لیکن بہر حال یہ اتنا آسان کام نہیں ہے ، وقت لگے گا۔مکرم چوہدری صاحب با وجود پیرانہ سالی کے بڑے جذبے سے یہ کام کر رہے ہیں۔حیرت ہوتی ہے ان کو دیکھ کے اور ان کے ساتھ کام کرنے والے بعض نوجوان ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ ہم میں بھی انہوں نے وقف کی حقیقی روح پھونک دی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر و صحت میں برکت ڈالے۔آپ بھی ان کے لئے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو زیادہ سے زیادہ خدمت دین کی توفیق دے۔بہر حال یہ ضمنا ذکر آ گیا۔میں یہ کہہ رہا تھا کہ جب میں اقتباس پڑھتا ہوں تو مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوتا ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں زیادہ سے زیادہ حد تک ہم پیغام پہنچا سکیں۔گو رواں ترجمہ جو ہے اتنا معیاری نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے لیکن بہت حد تک تشنگی دور ہو جاتی ہے اور بہت سے سننے والے آپ کے اپنے الفاظ سے فیضیاب ہوتے ہیں۔اللہ کرے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کی برکت سے اللہ اور آنحضرت میہ کی حسین تعلیم اور اسوہ سے ہمیشہ فیض پاتے چلے جانے والے ہوں۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد ہے اور یہی ہمارے احمدی ہونے کا مقصد ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے حصول کی توفیق عطا فرمائے۔آمین الفضل انٹر نیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 17۔مورخہ 25 اپریل تا یکم مئی 2008 صفحہ 5 تا 7)