خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 150

خطبات مسرور جلد ششم 150 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 اپریل 2008 پس یہ ایک احمدی کے لئے جو مغضوب الغضی میں نتائج سے لا پرواہ ہو جاتا ہے بڑا فکر کا مقام ہے اور ہونا چاہئے۔اکثریت ایسے احمدیوں کی ہے جو سزا ملنے کے بعد کچھ پریشان ہوتے ہیں۔معافی کے خط لکھتے ہیں۔غیر مشروط طور پر ہر فیصلے پر عمل کرنے کا کہتے ہیں۔اگر پہلے ہی اس کے جو عواقب ہیں وہ سوچ لیں تو کم از کم ان کے بچے اور خاندان شرمندگی سے بچ جائیں۔اعلیٰ اخلاق کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: چوتھی قسم ترک شر کے اخلاق میں سے رفق اور قول حسن ہے اور یہ خُلق جس حالت طبعی سے پیدا ہوتا ہے اس کا اور۔نام طلاقت یعنی کشادہ روی ہے ، یعنی ہنس کر جواب دینا، ہنس مکھ ہونا۔بچہ جب تک کلام کرنے پر قادر نہیں ہوتا بجائے رفق اور قول حسن کے طلاقت دکھلاتا ہے کہ وہ باتیں کرتا ہے جن میں نرمی ہوتی ہے۔لیکن فرمایا ”یہی دلیل اس بات پر ہے کہ رفق کی جڑھ جہاں سے یہ شاخ پیدا ہوتی ہے طلاقت ہے۔طلاقت ایک قوت ہے اور رفق ایک خلق ہے جو اس قوت کو حل پر استعمال کرنے سے پیدا ہو جاتا ہے۔اس میں خدائے تعالیٰ کی تعلیم یہ ہے۔وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة:84 ) - لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُوْنُوْا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِّسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلَا تَلْمِرُوْا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات : 12 - اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ۔إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا۔۔۔۔۔۔وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ (الحجرات: 13) - وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُوَّادَ كُلُّ أُوْلَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ( بنی اسرائیل : 37)۔ترجمہ: یعنی لوگوں کو وہ باتیں کہو جو واقعی طور پر نیک ہوں۔ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے۔ہوسکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھے ہوں۔بعض عورتیں بعض عورتوں سے ٹھٹھا نہ کریں ہوسکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھی ہوں۔اور عیب مت لگاؤ۔اپنے لوگوں کے بُرے بُرے نام مت رکھو۔بدگمانی کی باتیں مت کرو اور نہ عیبوں کو کرید کرید کر پوچھو۔ایک دوسرے کا گلہ مت کروں کسی کی نسبت وہ بہتان یا الزام مت لگاؤ جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں۔اور یاد رکھو کہ ہر ایک عضو سے مواخذہ ہوگا اور کان، آنکھ، دل ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔( اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 350) تو آپ نے یہ وضاحت فرمائی کہ بچہ جب تک اسے برے بھلے کی تمیز نہ ہو جائے جب کوئی اچھی بات کرتا ہے یا جب بولتا ہے تو کسی اعلیٰ خلق کی وجہ سے یا اپنے دل کے رفق کی وجہ سے نہیں بولتا بلکہ یہ اس کے اندر کی وہ قوت ہے یا فطرت ہے جو خدا تعالیٰ نے بچے کو عطا فرمائی ہے۔اور اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے یہ دلیل لی کہ رفق کی جو جڑھ ہے وہ انسان کے اندر ہوتی ہے اور نیک فطرت اور دین پر قائم خدا تعالیٰ کے حکم کے تابع اس خُلق کا