خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 148

148 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 4 اپریل 2008 پس ایک احمدی کی یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ ایک تو عہد بیعت کو پورا کرتے ہوئے اس راستے پر ہمیشہ چلتے رہنے کی کوشش کرے۔دوسرے اپنے ہم قوموں کو ، اپنے قریبیوں کو ان روشن راستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے چلانے کی کوشش کرے۔لیکن کیا طریق اختیار کرنا ہے، کیا حکمت عملی اپنانی ہے؟ اس کے بارے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتا دیا کہ میرے آنے کا مقصد سختی اور تلوار سے دنیا کی اصلاح نہیں ہے۔ڈنڈے کے زور پر ان راستوں پر نہیں چلانا بلکہ حلم اور خلق اور نرمی سے ان راستوں پر ڈالنا ہے۔پس آپ نے حلم اور خلق کے جو اعلیٰ نمونے دکھائے وہ اس عظیم اُسوہ حسنہ کے نمونے تھے جو آنحضرت ﷺ نے قائم فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گھر کے اندر بھی، دوستوں میں بھی، اپنے فوری ماحول میں بھی اور غیروں اور دشمنوں میں بھی وہ نمونے قائم کئے جو حلم وخلق اور رفق کی اعلی مثالیں ہیں۔کیونکہ دلوں کو فتح کرنے کا یہی ایک طریق ہے اور جیسا کہ میں نے کہا آپ کی بیعت میں آنے والے سے بھی اسی اعلیٰ خلق کی آپ توقع کرتے ہیں۔اور یہی نصیحت آپ نے اپنی جماعت کو ہمیشہ کی۔ایک جگہ نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : میں یہ بھی کہتا ہوں کہ سختی نہ کرو اور نرمی سے پیش آؤ۔جنگ کرنا اس سلسلہ کے خلاف ہے۔نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنی پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو۔یہ میری نصیحت ہے اس کو یادرکھو اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔آمین۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 185 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یہ نمونہ ایک احمدی اسی وقت قائم کر سکتا ہے جب ہر ماحول میں اس اعلی خلق یعنی حلم اور رفق کا اظہار ہے۔ایک شخص باہر غیروں کے سامنے تو حلم اور نرمی کے نمونے دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے دوسرے کو قائل کرے لیکن گھر کا ماحول اور آپس میں ایک دوسرے سے جو تعلقات ہیں وہ اس کے خلاف گواہی دے رہے ہوں تو جس کو ہم تبلیغ کریں گے وہ جب قریب آکر ہماری تصویر کا یہ رخ دیکھے گا تو واپس پلٹ جائے گا کہ کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔اور یوں ہمارے عمل روشن راستوں کی طرف راہنمائی کرنے کی بجائے اُن بھٹکے ہوؤں کو پھر بھٹکتا ہوا چھوڑ دیں گے۔ہمیں اپنی حالتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے۔ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔"صلاح ، تقویٰ، نیک بختی اور اخلاقی حالت کو درست کرنا چاہئے۔مجھے اپنی جماعت کا یہ بڑا غم ہے کہ ابھی تک یہ لوگ آپس میں ذراسی بات سے چڑ جاتے ہیں۔عام مجلسوں میں کسی کو احمق کہہ دینا بھی بڑی غلطی ہے۔اگر اپنے کسی بھائی کی غلطی دیکھو تو اس کے لئے دعا کرو کہ خدا اسے بچالیوے۔یہ نہیں کہ منادی کرو۔جب کسی کا بیٹا بدچلن ہو تو اس کو سر دست کوئی ضائع نہیں کرتا بلکہ اندر ایک گوشہ میں سمجھاتا ہے۔ایک طرف لے جا کر سمجھا تا ہے کہ یہ برا کام