خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 147

خطبات مسرور جلد ششم 147 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 اپریل 2008 عظیم تعلیم اور جس عظیم اُسوہ کو ہمارے ذہنوں سے بھلادیا تھا اب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر یہ تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم ان نیکیوں پر کار بند ہونے کی پوری کوشش کریں گے اور اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ کوشش کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی ایک کتاب میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ خدا نے مجھے دنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا میں حلم اور خلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور وہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہ راست پر چلاؤں“۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 143) پس یہ ہے وہ کام جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔اللہ تعالیٰ کی پاک ہدایتوں پر قائم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ان ہدایتوں کی طرف کھینچوں۔یعنی جس گند میں ایک انسان ڈوبا ہوا ہے اس سے کوشش سے نکالوں۔جس کنویں میں گرا ہوا ہے اس میں سے کھینچ کر نکالوں کھینچنا ایک کوشش چاہتا ہے۔اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر دوسرے کو انسان کھینچ کر اس تکلیف سے باہر نکالتا ہے جس میں دوسرا پڑا ہوتا ہے یا جس مشکل میں کوئی گرفتار ہوتا ہے۔پس یہ ہدایتوں کی طرف کھینچنا مدد کرنے والے سے ایک تکلیف کا مطالبہ کرتا ہے اس لئے اس تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے آپ نے ایک جگہ یوں بھی فرمایا کہ میں کس ؤف سے مُنادی کروں تا لوگ ہدایت کے چشمہ کی طرف آئیں۔اور پھر دیکھیں کہ اس اظہار ہمدردی کا کیا معیار ہے جو انسانیت کے لئے آپ کے دل میں تھی کہ صرف یہی نہیں کہ کھینچنا ہے اور گند سے یا تکلیف سے باہر نکال دینا ہے بلکہ اس روشن راستے پر چلانا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا۔اور راستے پر چلانے کے لئے مستقل را ہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ روشنی صرف چند قدم کی نہیں ہے بلکہ اس راستے کی طرف لے جانے کے لئے روشنی مہیا کرنی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے۔جس کی ایک منزل کے بعد دوسری منزل آتی ہے۔جس کی ایک منزل پر پہنچ کر اگلی منزل پر پہنچنے کی بھڑک اور تڑپ اور زیادہ ہو جاتی ہے۔پس یہ روشنی بھی ایک مستقل روشنی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی ہدایتوں کے تمام دیوں کو روشن کرنے سے ملتی ہے۔ہدایت کی ایک منزل پر پہنچ کر ہدایت کی اگلی منزل کے راستے نظر آنے لگتے ہیں۔اخلاق کی ایک منزل پر پہنچ کر اخلاق کے دوسرے اعلیٰ معیار نظر آنے لگتے ہیں۔پس یہ ایک مسلسل کوشش ہے ہدایت دینے والے کے لئے بھی اور ہدایت پانے والے کے لئے بھی۔جس کے اس زمانے میں اعلیٰ ترین نمونے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے قائم فرمائے۔اس لئے کہ ہم اس روشن راستے پر ہمیشہ سفر کرتے چلے جائیں اور نہ صرف خودان روشن راستوں پر چلنے والے ہوں بلکہ رحمتہ للعالمین اکے ماننے والے ہونے کی وجہ سے دوسروں کو بھی اس راستے پر چلانے کی کوشش کریں۔