خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 143

خطبات مسرور جلد ششم 143 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 پھر حضرت عائشہ سے روایت ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ رفیق ہے اور وہ رفیق کو پسند فرماتا ہے اور وہ رفق پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو وہ بختی پر عطا نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے علاوہ وہ کسی اور شے پر عطا کرتا ہے۔( صحیح مسلم۔کتاب البر والصلۃ۔باب فضل الرفق۔حدیث نمبر 6496) تو آنحضرت ﷺ جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے پیار اور محبت کے بھوکے تھے کیا ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اپنے ماننے والوں کو یہ نصیحت کریں اور خود اس پر عمل نہ کرنے والے ہوں؟ پھر آپ فرماتے ہیں، حضرت جابر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تین باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اسے اپنی حفاظت اور رحمت میں رکھے گا اور اسے اپنی جنت میں داخل کرے گا۔پہلی یہ کہ وہ کمزوروں سے رفق اور نرمی کا سلوک کرے۔دوسری یہ کہ وہ ماں باپ سے شفقت کا سلوک کرے۔تیسری یہ کہ خادموں اور نوکروں سے اچھا سلوک کرے۔( ترمذی۔صفۃ القیمۃ والرقائق۔باب 113/48۔حدیث نمبر 2494) صد الله پھر ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! نرمی اختیار کر کیونکہ اللہ جب کسی گھر والوں کو خیر پہنچانے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کی رہنمائی رفیق کے دروازے کی طرف کر دیتا ہے۔( مسند احمد بن حنبل۔مسند عائشتہ۔جلد نمبر 8 حدیث نمبر 25241 صفحہ 175-عالم الكتب للطباعة بیروت طبع اول 1998ء) حضرت معاویہ بن الْحَكَم السلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نماز میں رسول کریم اے کے ساتھ کھڑا تھا کہ اسی اثناء میں ایک شخص نے چھینک ماری تو میں نے بلند آواز سے يَرْحَمُكَ اللہ کہہ دیا۔اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے جو مجھے بہت برا محسوس ہوا۔میں نے کہا تم مجھے کیوں تیز نظروں سے گھورتے ہو۔اس پر لوگوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کر دیئے۔جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔جب رسول کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو کہتے ہیں میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد ایسا معلم نہیں دیکھا جو اتنے اچھے انداز میں سکھانے والا ہو۔خدا کی قسم ! نہ تو آپ نے مجھے تیوری چڑھا کر دیکھا اور نہ سرزنش کی اور نہ ہی ڈانٹا بس اتنا کہا کہ نماز میں لوگوں سے کسی قسم کی بات چیت مناسب نہیں۔نماز تو صرف تسبیح اور تکبیر اور قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے ہوتی ہے۔تو یہ آپ کے اپنوں کو سکھانے کے انداز تھے۔( صحیح مسلم۔کتاب المساجد۔باب تحریم الکلام فی الصلوۃ - نمبر 1087)