خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 137

137 خطبه جمعه فرمودہ 28 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے اور نہ ہی کبھی ہم قانون اپنے ہاتھ میں لے کر تم سے بدلہ لیں گے۔لیکن ہم اُس خدا کو ماننے والے ہیں جو حد سے بڑھے ہوؤں کو پکڑتا ہے۔اگر اپنی مذموم حرکتوں سے باز نہ آئے تو اس کی پکڑ کے نیچے آ سکتے ہو۔پس خدا کا خوف کرتے ہوئے اپنی حالت کو بدلو۔بے شک ہم تو خدا کے ماننے والے ہیں ، اس خدا کے ماننے والے ہیں جو رفیق ہے اور اس صفت کے تحت وہ مہربانی کرنے والا بھی ہے، ہمدردی کرنے والا بھی ہے ، رحم کرنے والا بھی ہے، نقصان سے بچانے والا بھی ہے اور امن سے رکھنے والا بھی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں رنگین ہونے کی کوشش کرتے ہوئے ہم تمہاری ہمدردی اور تمہیں بچانے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ اپنی حالت بدلو۔یہ ایک آخری کوشش ہے۔اس کے بعد اَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِینَ کے حکم کے تحت ہم معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں اور وہ اپنے نبی اکے دین کی عزت و توقیر قائم کرنا جانتا ہے اور خوب جانتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” اس انسان کامل ہمارے نبی ﷺ کو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں ، بدزبانی اور شوخیاں کی گئیں۔مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلے میں کیا کیا۔ان کے لئے دعا کی اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح و سلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہ کر سکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور ﷺ کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خودہی ذلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد دوم صفحہ 592۔زمر سورۃ الاعراف آیت 200) آج بھی محمد رسول اللہ ﷺ کا خدا زندہ خدا ہے۔اپنی مذموم کوششوں میں دشمن کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔انشاء اللہ۔بلکہ ذلیل وخوار ہو گا۔لیکن ہمارے سپر د جو کام ہے وہ کرتے چلے جانا ہمارا فراض ہے۔دنیا کو امن دینے کے لئے اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے ، دنیاوی ہمدردی کے لئے نرمی سے اپنا پیغام پہنچاتے چلے جانا ہے اور نرمی کا مظاہرہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ ہمیں قرآن کریم میں کیا حکم دیتا ہے۔اس بارے میں اللہ تعالیٰ سورۃ الشوریٰ کی آیت 41 میں فرماتا ہے کہ وَجَزَاؤُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ۔إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ (الشورى : 41) اور بدی کا بدلہ کی جانے والی بدی کے برابر ہوتا ہے۔پس جو کوئی معاف کر دے بشرطیکہ وہ اصلاح کرنے والا ہو تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے۔یقیناً وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”بدی کی جزاء اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقعہ پر بخش دے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو، کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو یعنی عین عفو کے محل پر ہو، نہ غیر حل پر تو اس کا وہ بدلہ پائے گا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خونخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے۔بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ عمل اور موقعہ گناہ بخشنے کا ہے یا