خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 135
135 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم یہ اعتراض کوئی نیا اعتراض نہیں ہے۔بہت پرانا اعتراض ہے، میں نے پہلے بھی یہ ذکر کیا تھا کہ جنگوں میں یہ لوگ کیا کچھ نہیں کرتے لیکن شرارت ہے اس لئے کہ اس آیت کا جو اگلا حصہ ہے وہ بیان نہیں کرتا کہ جب جنگ ختم ہو جائے تو احسان کرتے ہوئے یا فدیہ لے کر جن کو قیدی بنایا ہے ان کو چھوڑ دو۔اصل میں تو یہ حکم اس لئے ہے کہ اسلام اس قدر نرمی اور دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ تعلیم کا یہ حصہ بتا نا بھی ضروری تھا اور یہی کامل تعلیم کا کمال ہے کہ حالات کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔نہ تو اتنی سختی سے بدلے کا حکم ہے کہ ہر بات کا بدلہ دیا جائے اور انسانوں سے جانوروں جیسا سلوک کیا جائے۔نہ ہی اتنی نرمی کا حکم ہے کہ اگر ایک گال پر کوئی طمانچہ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دو۔جس پر عمل کرنا ناممکن ہے۔اور اس تعلیم کو ماننے والے سب سے زیادہ بدلے لیتے ہیں۔یہ ولڈر (Wilder) جو اس تعلیم کا پیروکار ہے، اس کو اپنے گریبان میں بھی کچھ جھانکنا چاہئے کہ وہ کس حد تک اپنی تعلیم پر عمل کر رہا ہے۔بہر حال اس وقت میں قرآن کریم کی اس تعلیم کا ذکر کروں گا اور وہ چند آیات سامنے رکھوں گا جس سے اسلام کے رفق ، حلم اور عفو کی تعلیم کا اظہار ہوتا ہے۔لیکن اس سے پہلے ایک اہم امر کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں۔وہ یہ کہ احمدی عمو مادرود شریف پڑھنے کی طرف توجہ دیتے ہیں۔کئی خط مجھے آتے ہیں جن میں اس کے فیض کا بھی ذکر ہوتا ہے کہ درود شریف پڑھا اور یہ یہ فیض ہم نے پایا۔خلافت جوبلی کی دعاؤں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی الہامی دعا تی تجمید اور درود جس میں ہے، وہ بھی شامل ہے یعنی سُبحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ۔اسی طرح مکمل درود شریف جو ہم نماز میں پڑھتے ہیں وہ بھی دعاؤں میں شامل ہے۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔اَللهُمَّ بَارَكِ عَلَى مُحَمَّدٍ وعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اور ایک خاص تعداد میں جو بلی کی دعاؤں میں اس کو بھی پڑھنے کے لئے کہا ہوا ہے اور یہ تعداد صرف عادت ڈالنے کے لئے ہے۔بہر حال احمدی جیسا کہ میں نے کہا درود پڑھتے ہیں اور اس طرف توجہ ہے اور احمدی کو یہ توجہ اس لئے ہے کہ اس زمانے میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی طرف ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی اور اس میں خاص طور پر درود شریف کی اہمیت کا بھی ہمیں بتایا ہے جیسا کہ آپ نے مختلف جگہوں پر جماعت کو اس کی تلقین کی۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : ” درود شریف جو حصول استقامت کا ایک زبر دست ذریعہ ہے، بکثرت پڑھو۔مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ ﷺ کے حسن و احسان کو مد نظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیت دعا کا شیر میں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔