خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 131
خطبات مسرور جلد ششم 131 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 2008 ہمارا ایک ہے، ہم دونوں مسلمان ہیں۔لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھتے ہیں۔جب تک یہ نہ سمجھیں جو کہیں ان کا حق ہے۔وہ ڈاکٹر صاحب پھر کچھ دن اور ٹھہرے اور صبح شام حضرت مسیح موعود سے سوال جواب کرتے رہے اور کہتے ہیں وہ سوال جواب اسی وقت اخباروں میں، بدر میں یا الحکم میں شائع ہوتے رہتے تھے۔نووارد نے ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہا کہ میرے لئے دعا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا دعا تو میں ہندو کے لئے بھی کرتا ہوں مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ امر مکروہ ہے کہ اس کا امتحان لیا جاوے۔میں دعا کروں گا آپ وقتاً فوقتا یاد دلاتے رہیں۔اگر کچھ ظاہر ہوا تو اس سے بھی اطلاع دوں گا۔مگر یہ میرا کام نہیں۔خدا تعالیٰ چاہے تو ظاہر کر دے۔وہ کسی کے منشاء کے ماتحت نہیں بلکہ وہ خدا ہے۔غَالِبٌ عَلی آمرہ ہے۔ایمان کوکسی امر سے وابستہ کرنامنع ہے مشروط بالشرائط ایمان کمزور ہوتا ہے۔نیکی میں ترقی کرنا کسی کے اختیار میں نہیں۔ہمدردی کرنا ہمارا فرض ہے۔اس کے لئے شرائط کی ضرورت نہیں۔ہاں یہ ضروری ہوگا کہ آپ جنسی ٹھٹھے کی مجلسوں سے دور رہیں۔یہ وقت رونے کا ہے نہ ہنسی کا۔آپ جائیں گے موت وحیات کا پتہ نہیں۔دو تین ہفتے تک بچے تقویٰ سے دعا مانگو کہ الہی مجھے معلوم نہیں تو ہی حقیقت کو جانتا ہے مجھے اطلاع دے۔اگر صادق ہے تو اس کے انکار سے ہلاک نہ ہو جاؤں اور اگر کا ذب ہے تو اس کے اتباع سے بچا۔اللہ تعالیٰ چاہے تو اصل امر کو ظاہر کر دے۔بہر حال اس پر ڈاکٹر صاحب نے جو غیر از جماعت تھا کہا کہ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میں بہت بُرا ارادہ کر کے آیا تھا کہ میں آپ سے استہزاء کروں اور گستاخی کروں مگر خدا نے میرے ارادے کو رد کر دیا۔میں اب اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو فتویٰ آپ کے خلاف دیا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔اور میں زور دے کر نہیں کہہ سکتا کہ آپ مسیح موعود نہیں ہیں بلکہ مسیح موعود ہونے کا پہلو زیادہ زور آور ہے اور میں کسی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ آپ مسیح موعود ہیں۔جہاں تک میری عقل اور سمجھ تھی میں نے آپ سے فیض حاصل کیا ہے اور جو کچھ میں نے سمجھا ہے وہ ان لوگوں پر ظاہر کروں گا جنہوں نے منتخب کر کے مجھے بھیجا ہے۔کل میری اور رائے تھی اور آج اور ہے۔اور کہا کہ کیونکہ ایک پہلوان بغیر لڑنے کے ہار ماننے والا نہیں ہوتا وہ نامرد کہلائے گا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ بغیر اعتراض کے آپ کی باتیں تسلیم نہ کروں۔تو اتنا انصاف تھا کہ حق کو حق سمجھا، قبول نہیں بھی کیا تب بھی اپنے خیالات یکسر بدل لئے۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی - صفحہ 453-451) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب چوہدری حاکم علی صاحب کی ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت صاحب بڑی مسجد میں کوئی لیکچر یا کوئی خطاب دے رہے تھے کہ ایک سکھ مسجد میں گھس آیا اور سامنے کھڑا ہو کر حضرت صاحب کی جماعت اور آپ کو سخت گندی اور فحش گالیاں دینے لگا اور ایسا شروع ہوا کہ بس چپ ہونے میں نہیں آتا