خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 129 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 129

خطبات مسرور جلد ششم 129 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 2008 غرض ایسے ہی بیا کا نہ الفاظ کہے۔مگر آپ کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔بڑے سکون سے سنا کئے اور پھر بڑی نرمی سے اپنی باری پر بات کی کسی کا کلام کیسا ہی بیہودہ اور بے موقع ہو اور کسی کا کوئی مضمون نظم یا نثر میں سے کیسا ہی بے ربط اور غیر موزوں ہو آپ سننے کے وقت یا بعد خلوت کبھی نفرت و ملامت کا اظہار نہیں کرتے تھے اور اکثر ایسا ہوتا تھا کہ جو ساتھ بیٹھے سننے والے ہوتے تھے اس دلخراش اور لغو کلام سے گھبرا کر اٹھ جاتے تھے اور آپس میں نفرین کے طور پر کانا پھوسی کرتے تھے اور مجلس کے برخاست ہونے کے بعد تو ہر ایک نے اپنے اپنے حو صلے اور ارمان بھی نکالے کہ کیا بیہودہ کلام ہے جو یہاں سنایا گیا۔یا فلاں شخص نے کیسی بیہودہ باتیں کی ہیں۔لیکن مظہر خدا کے علیم اور شاکر ذات نے کبھی بھی ایسا کوئی اشارہ کنایہ نہیں کیا جس سے لگے کہ آپ کو بُر الگا ہے۔(ماخوذ از سیرت مسیح موعود علیہ السلام از مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ 44 پبلشر زا بوالفضل محمود۔قادیان) 1904ء کا ایک واقعہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سناتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک گالیاں دینے والے اخبار کا تذکرہ آیا تو اس پر آپ نے فرمایا کہ صبر کرنا چاہئے۔گالیوں سے کیا ہوتا ہے ایسا ہی آنحضرت ﷺ کے وقت کے لوگ آپ کی مذمت کیا کرتے تھے اور آپ کو نعوذ باللہ منم کہا کرتے تھے تو آپ ہنس کر فرمایا کرتے تھے کہ میں ان کی مذمت کو کیا کروں میرا نام تو اللہ تعالیٰ نے محمد رکھا ہوا ہے م ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اسی طرح اللہ نے مجھے بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میری نسبت فرمایا ہے۔يَحْمَدُكَ اللهُ مِنْ عَرشِه یعنی اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے تیری حمد کرتا ہے۔یہ وحی براہین احمدیہ میں موجود ہے۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔صفحہ 450) آپ پر غصہ دلانے والی ایسی باتیں اثر نہیں کرتی تھیں۔جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ مجھے صبر کی طاقت ہے۔میرے میں وہ علم ہے جس سے میں سب کچھ برداشت کرتا ہوں۔اگر آپ چاہتے تو جواب دے سکتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی صفت کا مظہر تھے اس لئے آپ ہمیشہ صبر سے کام لیتے تھے بلکہ آپ نے ایک شعر میں اس کا اظہار یوں کیا ہے ؎ گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے پھر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی بیان کرتے ہیں کہ 1903ء فروری کا واقعہ ہے کہ ایک ڈاکٹر صاحب لکھنو سے تشریف لائے اور بقول ان ڈاکٹر کے وہ بغدادی نسل کے تھے اور عرصہ سے لکھنو میں مقیم تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ چندا حباب نے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حالات دریافت کرنے کے لئے