خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 125

خطبات مسرور جلد ششم 125 خطبه جمعه فرموده 21 مارچ 2008 پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اشج عبد القیس کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم میں دوخو بیاں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ان میں سے ایک حلم ہے اور ایک وقار۔(مسلم کتاب الایمان۔باب الامر بالایمان بالله۔۔۔حدیث نمبر 26) پس جیسا کہ ہم نے لغت میں بھی دیکھا۔میں نے معنی بتائے تھے کہ حلم کے معنی ہیں رحم کرنا ، معاف کرنا، برداشت کرنا، دوسروں سے مہربانی سے پیش آنا، غصے کو دبانا۔اور یہ ایسی خصوصیات ہیں جو معاشرے کے امن کے لئے انتہائی ضروری ہیں اور روحانیت کی ترقی کے لئے بھی انتہائی ضروری ہیں۔اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کے لئے بھی بہت اہم ہیں۔پس ان کو ہر احمدی کو اختیار کرنا چاہئے۔اس زمانے میں آنحضرت کے غلام صادق نے ہمارے سامنے اعلیٰ خلق کے کیا نمونے پیش فرمائے ان میں سے چند ایک کا میں ذکر کرتا ہوں۔سب سے پہلے تو یہ کہ گھر کے سکون کے لئے اس صفت کے اظہار کی آپ نے کس طرح تلقین فرمائی۔عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: فحشاء کے سواباقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں۔“ اور فرمایا کہ: ” ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے اور در حقیقت یہ ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس کا شکریہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔ایک دفعہ ایک دوست کی درشت مزاجی اور بدزبانی کا ذکر ہوا اور شکایت ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔حضور اس بات پر بہت رنجیدہ خاطر ہوئے اور فرمایا کہ: ” ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے۔اور پھر بہت دیر تک آپ نے عورتوں کے ساتھ سلوک پر فرمائیں۔نصیحتیں ( ملفوظات جلد اول۔صفحہ 307 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پھر آپ اپنے خادموں کے ساتھ کس طرح حلم اور برداشت کے ساتھ پیش آیا کرتے تھے۔حافظ حامد علی مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک خادم تھے۔حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی نے لکھا ہے کہ ” وہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرصہ دراز تک رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد صدرانجمن احمد یہ نے آخر عمر میں انہیں پینشن دے دی تھی۔اور وہ قادیان میں رہنے کے لئے ایک مختصر سی دکان کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کے اخلاق اور برتاؤ کا جو حضور حافظ صاحب سے کرتے تھے ان پر ایسا اثر تھا کہ وہ بارہا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے میں نے تو ایسا انسان کبھی دیکھا ہی نہیں۔بلکہ زندگی بھر حضرت کے بعد کوئی انسان اخلاق کی اس شان کا نظر نہیں آتا۔