خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 121

121 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم لئے لیکے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قرض لینے والا بات کرنے کا حق رکھتا ہے۔(اسے کوئی جانور دینا تھا ، اونٹ یا بکری وغیرہ جو بھی تھا )۔آپ نے فرمایا اس شخص کے لئے اس عمر کا جانور سے خرید کر دے دو جس عمر کا اس نے وصول کرنا ہے۔تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہمارے پاس اس کے جانور سے بڑی عمر کا جانور موجود ہے۔آپ نے فرمایا تم وہ خرید کر اسے دے دو کیونکہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو عمدگی سے قرض ادا کرتا ہے۔(اور کوئی سخی نہیں کرنی )۔(مسلم کتاب المساقاة باب من استسلف شیما فقضی خیرامنه - حدیث نمبر 4001) حلم کے معنی برداشت کرنے کے ہیں اور مہربان کے بھی ہیں۔ان دونوں مثالوں سے آنحضرت ﷺ کی برداشت اور مہربانی دونوں ظاہر ہوتے ہیں۔پھر گھر یلو معاملات میں ایک مثال ہے کہ کس طرح غصہ کو برداشت کرتے تھے اور آپ اس طریق سے تربیت بھی فرماتے تھے کہ دوسرے کو احساس بھی ہو جائے اور سختی بھی نہ کرنی پڑے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ بنی سُواءۃ کے ایک شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ مجھے آنحضرت ﷺ کے اخلاق فاضلہ کے بارے میں بتا ئیں۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ کیا تم نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: 4) پھر آپ فرمانے لگیں کہ ایک مرتبہ آنحضور ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تھے۔میں نے آپ کے لئے کھانا تیار کیا اور حضرت حفصہ نے بھی کھانا تیار کیا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے پہلے کھانا تیار کر کے بھجوا دیا تو میں نے اپنی خادمہ کو کہا کہ جاؤ اور حفصہ کے کھانے کے برتن انڈیل دو۔اس نے ے کے سامنے کھانے کا پیالہ رکھتے ہوئے وہ کھانا انڈیل دیا۔اس طرح انڈیلا کہ پیالہ بھی ٹوٹ گیا اور کھانا بھی نیچے گر گیا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے پیالے کے ٹکڑوں کو جمع کیا اور کھانے کو جمع کیا اور ایک چمڑے کے دستر خوان پر جو وہاں پر پڑا تھا اس کو رکھا اور وہاں سے اس بچے ہوئے کھانے کو کھایا اور پھر میرا پیالہ حضرت حفصہ کی طرف لوٹاتے ہوئے فرمایا کہ اپنے برتن کے عوض یہ برتن رکھ لو اور کھانا بھی کھاؤ۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک پر اس وقت کوئی غصہ کے آثار نہیں تھے۔( سنن ابن ماجہ۔کتاب الاحکام۔باب الحکم فیمن کسر شیا۔حدیث 2333) آپ نے اس ایک فعل سے خادموں کو بھی نصیحت کر دی اور حضرت عائشہ کو بھی کہ آپس میں سوکنا پے جائز حد تک رہنے چاہئیں بلکہ ایک دوسرے کی دشمنی ہونی ہی نہیں چاہئے۔یہ جو عظیم اسوہ آپ نے اپنے ہر کام میں قائم کیا یہ صرف اس زمانے کے لوگوں کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ اسوہ جو آپ نے قائم کیا، یہ اسوہ ہمارے لئے رہتی دنیا تک ایک نمونہ ہے اور ہمارے عمل کرنے کے لئے ہے۔صرف یہی نہیں کہ ہم پڑھ لیں اور سن لیں اور اس سے لطف اندوز ہو جائیں اور جب وقت آئے تو اس کی اہمیت بھول جائیں۔