خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 115 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 115

115 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم صفات کا اظہار کرتا ہے اور بوقت ضرورت کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی وعدہ ہے کہ آپ کی جماعت کا غلبہ ہوگا اور انشاء اللہ ضرور ہوگا۔بعض احمدی بعض الہامات پر خوش نہی میں وقت کا تعین شروع کر دیتے ہیں۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ وہ وقت نہیں بتاؤں گا۔پس اگر حضرت مسیح موعود کو وقت نہیں بتایا گیا تو میں آپ کون ہیں جن کو وقت کا پتہ لگ جائے؟ اگر وقت کا پتہ لگ جائے تو بغتہ کیا ہوا ؟ تو ہمارا کام دعائیں کئے جانا ہے اور وقت کا انتظار کرنا ہے۔قوموں کی زندگی میں چند سال کوئی لمبا عرصہ نہیں ہوا کرتا۔تمام مخالفتوں کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی جو ترقی ہے وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔چاہے کسی کی ظاہری دشمنی کی کوششیں ہوں یا چھپی ہوئی دشمنی کی کوششیں ہوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں اور نہ کبھی بگاڑ سکیں اور جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے آگے سے آگے ہی بڑھ رہی ہے اور انشاء اللہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے اعمال کی طرف توجہ دیں۔اور یہ بڑی اہم بات ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو پاک صاف رکھے اور ہمارے سے وہ اعمال کروائے جو اس کی رضا کے حصول کے اعمال ہوں۔اگر ہم نے اپنے عملوں کو ، اپنے دلوں کو غلط کاموں سے پاک صاف رکھا تو بعید نہیں کہ جلد وہ غلبہ عطا ہو اور وہ نظارے ہمیں نظر آئیں جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔پس ہمیں اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ غفور بھی ہے اور حلیم بھی ہے ہمارے کسی عمل کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہو جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُواحِدُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمُ (البقرة: 226) یعنی تمہارا مواخذہ کرے گا جو تمہارے دل کماتے ہیں اور پھر آگے فرمایا کہ وَاللَّهُ غَفُورٌ حلیم اللہ بہت بخشنے والا اور بردبار ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”انسان کے دل کے تخیلات جو بے اختیار اٹھتے رہتے ہیں اس کو گنہ گار نہیں کرتے بلکہ عنداللہ مجرم مظہر جانے کی تین ہی قسم ہیں۔(1) اول یہ کہ زبان پر ناپاک کلمے جو دین اور راستی اور انصاف کے برخلاف ہوں جاری ہوں۔(2) دوسرے یہ کہ جوارح یعنی ظاہری اعضاء سے نافرمانی کی حرکات صادر ہوں۔(3) تیسرے یہ کہ دل جو نا فرمانی پر عزیمت کرے یعنی پختہ ارادہ کرے کہ فلاں فعل بدضرور کروں گا۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولکن یو اخذ گم بما كسبت قلو بگم (البقرة : 226) یعنی جن گناہوں کو دل اپنی عزیمت سے حاصل کرے ان گناہوں کا مؤاخذہ ہو گا مگر مجرد خطرات پر مواخذہ نہیں ہو گا کہ وہ انسانی فطرت کے قبضہ میں نہیں ہیں۔خدائے رحیم ہمیں ان خیالات پر نہیں پکڑتا جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں۔ہاں اس وقت پکڑتا ہے کہ جب ہم ان خیالات کی زبان سے، یا ہاتھ سے یا دل کی عزیمت سے پیروی کریں بلکہ بعض وقت ہم ان خیالات سے ثواب حاصل کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے صرف قرآن کریم میں ہاتھ پیر کے گناہوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کان اور آنکھ اور دل کے گناہوں کا بھی