خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 116

خطبات مسرور جلد ششم 116 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 مارچ 2008 ذکر کیا ہے۔جیسا کہ وہ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُوَّادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل : 37) یعنی کان اور آنکھ اور دل جو ہیں ان سب سے باز پرس کی جائے گی۔اب دیکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کان اور آنکھ کے گناہ کا ذکر کیا ایسا ہی دل کے گناہ کا بھی ذکر کیا مگر دل کا گناہ خطرات اور خیالات نہیں ہیں کیونکہ وہ تو دل کے بس میں نہیں ہیں بلکہ دل کا گناہ پختہ ارادہ کر لینا ہے۔صرف ایسے خیالات جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں گناہ میں داخل نہیں۔ہاں اس وقت داخل ہو جائیں گے جب ان پر عزیمت کرے اور ان کے ارتکاب کا ارادہ کر لیوے۔ایسا ہی اللہ جل شانہ اندرونی گناہوں کے بارے میں ایک اور جگہ فرماتا ہے قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (الاعراف : 34) یعنی خدا نے ظاہری اور اندرونی گناہ دونوں حرام کر دیئے ہیں۔( نور القرآن نمبر 2۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 427 تا428) پس اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں ان سے فیض حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنے جائزے لیتے رہنے کی بھی ضرورت ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے نظارے کرتے رہنے والے بنیں اور اس کے لئے تین باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے ، جن سے ظاہری طور پر ایک مومن نیکیاں بجالانے والا ہوتا ہے اور دل بھی پاک رہتا ہے۔آپ نے پہلی بات یہ بتائی کہ کوئی ایسی بات کبھی کسی کے خاص طور پر احمدی کے منہ سے نہ نکلے جو سچائی اور انصاف کا گلا گھونٹنے والی ہو۔جس سچائی پر قائم رہنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس سے کبھی دور جانے والے نہ ہوں۔اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا خدا تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے اس کو کبھی بھولنے والے نہ ہوں۔انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے بارے میں فرمایا کہ اپنوں کے خلاف بھی اگر تمہیں انصاف قائم کرنے کے لئے گواہی دینی پڑے تو گواہی دو۔اور پھر اس حد تک فرمایا کہ کسی کی دشمنی بھی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کرے کہ تم انصاف کے تقاضے نہ پورے کر سکو۔پس یہ بہت اہم حکم ہے۔اللہ حلیم ہے تو ہمیں بھی حلم اختیار کرنا چاہئے۔پھر دوسری بات یہ کہ کسی بھی عمل سے ایسی حرکت ظاہر نہ ہو جو نافرمانی والی ہو۔اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ لڑائی جھگڑوں اور دنگا فسادوں سے بچو تو اس پر پوری طرح عمل ہو۔پھر ظاہری عمل ہی نہیں اگر کسی نے اپنے لئے دل میں بھی کسی غلط کام کا ارادہ کیا ہے تو یہ بات بھی اسے خدا تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے لانے والی ہوگی۔ہاں اس بات کی تو چھوٹ ہو سکتی ہے کہ جو دل میں خیال آئے، کیونکہ بعض اوقات انسان کے دل میں خیالات آ جاتے ہیں کہ بس میں نہیں ہوتا۔اگر کوئی بدخیال آتا ہے تو اس کو فوراً جھٹک دے۔لیکن اگر اس کو دل میں بٹھائے ، دوہرا تا رہے اور یہ ارادہ بھی کرے کہ یہ کام میں ضرور کروں گا تو یہ گناہ ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ اگر کسی شخص کے دل میں برا خیال آئے اور وہ