خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 114
خطبات مسرور جلد ششم 114 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 مارچ 2008 زمانے میں گائیوں کی بیماری نے ان کو پریشان کر دیا تھا۔اگر غور کریں اور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ جو ہر چیز پر قادر ہے ایک وقت میں ہی دنیا کے ان تمام جانوروں میں کسی قسم کی بیماری پیدا کر دے تو دنیا اسی سے عذاب میں مبتلا ہو جائے گی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔وہ ایک آخری مدت تک مہلت دیتا ہے اور جب وہ مدت آ جائے اور انسان اپنے رویوں میں تبدیلی نہ کرے، خدا کے کاموں میں ہاتھ ڈالنے سے باز نہ آئے ، اس کی رکھ میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو پھر مزید ڈھیل نہیں ہوتی۔پھر صفت حلیم کی بجائے دوسری صفات اپنا کام کرنا شروع کر دیتی ہیں۔اس آیت میں بھی اور دوسری آیات میں بھی دَابَّة کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کا ترجمہ ہے جاندار یا جانور۔اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ زمین کے کیڑے، پس یہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسے لوگ جو خدا تعالیٰ کے اور اس کے نبیوں کے مقابلے پر کھڑے ہوتے ہیں وہ دنیا کے کیڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ اگر یہ لوگ اپنی اصلاح نہیں کرتے تو جس طرح کیڑوں کو مسلنے میں کوئی عار نہیں ہے ان کو بھی اسی طرح ختم کر دے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق ایک مدت تک مہلت دی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی نظر میں اور ہر دیندار کی نظر میں یہ لوگ بے حقیقت ہیں۔ذلیل کیڑے سے زیادہ ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں جو خدا کے مقابلے پر کھڑے ہوتے ہیں۔یہ تو چند مثالیں ہیں جو میں نے پیش کیں ، ان لوگوں کی جو استہزاء میں بڑھے ہوتے ہیں اور خاص طور پر اسلام اور آنحضرت ﷺ کو نشانہ بناتے ہیں اور زبان حال سے یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا اگر کوئی خدا ہے تو سامنے آ کر ہم سے بدلہ کیوں نہیں لیتا تو اللہ تعالیٰ حلیم ہے درگزر کرتا ہے لیکن جب اس کی چکی چلتی ہے تو اس دنیا میں بھی حد سے بڑھے ہوؤں کو خائب و خاسر کر دیتی ہے اور اگلے جہان میں بھی۔قرآن کریم کی ان آیات میں ان لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف استہزاء اور بد زبانی اور بدگوئی سے باز نہیں آتے کہ اللہ کی چھوٹ سے غلط فائدہ نہ اٹھاؤ۔اس کتاب کو ماننے والے، قرآن کریم کو ماننے والے جو لوگ ہیں ان پر تو اور بھی زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر غور کر کے غلط استہزاء اور الزام تراشی سے باز آئیں۔اگر اللہ تعالیٰ پکڑ نہیں رہا تو یہ نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نعوذ باللہ جھوٹے ہونے کی دلیل ہے نہ تم لوگوں کے بچے ہونے کی دلیل ہے۔پس مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے ان پر بھی بڑی آفات آ رہی ہیں ، ان پر بھی غور کریں۔یہاں میں احمدیوں کو بھی ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ بعض جلد باز سمجھتے نہیں اور فکر میں رہتے ہیں کہ حالات بدلتے نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ فرمایا ہر کام کے لئے ایک اجل مسمی ہے اور عذاب کے لئے تو خاص طور پر اس نے اجل مسمی کا ذکر کیا ہے۔جب وہ آئے گی تو نہ (کوئی) اس سے ایک قدم آگے جائے گا نہ پیچھے۔اللہ تعالیٰ تو اپنی تمام