خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 107
107 خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم یعنی یقیناً یہ قرآن اس ( راہ) کی طرف ہدایت دیتا ہے جو سب سے زیادہ قائم رہنے والی ہے اور ان مومنوں کو جو نیک کام کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ( مقدر) ہے۔پس یہ اعلان غیر مسلموں کے لئے بھی ہے اور مومنین کے لئے بھی۔قرآن کریم کی ہدایت اور مقاصد بہت اعلیٰ ہیں۔اور یہ ہدایت اور یہ شریعت ہمیشہ کے لئے ہے جبکہ پہلی شریعتیں نہ مکانی وسعت رکھتی تھیں نہ زمانی وسعت۔نہ ہی ان میں کاملیت ہے، نہ ہی فطرت کے مطابق ہیں۔پس نیک فطرت لوگوں کا اس کو قبول کرنا اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کی سچائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پس یہ پیغام ہے ہر غیر کے لئے جو ہم نے پہنچاتا ہے کہ آئندہ اگر روحانی اور جسمانی انعامات حاصل کرنے ہیں تو یہی قرآن ہے جس کی تعلیم پر عمل کر کے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔پھر مومنوں کو بشارت ہے کہ جب تک تمہارے عمل نیک رہیں گے، اعلیٰ مقاصد کے حصول کی کوشش کرتے رہو گے تو تمہارے انعام اس اعلیٰ عمل کے نتیجے میں بڑھتے بھی رہیں گے اور بہت اعلیٰ بھی ہوں گے۔پس جیسا کہ میں پہلے شروع میں ذکر کر آیا ہوں کہ قرآن کریم کی تلاوت کا حق مومنین کے نیک اعمال کے ساتھ مشروط ہے۔اس لئے اپنے اعمال کی حفاظت کرتے رہنا یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ایک مسلمان پر ڈالی گئی ہے۔اور نہ صرف ہر مسلمان پر اپنی ذات کے بارے میں یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی اس انعام اور اس کے بڑے اجر سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔یہ نہ ہو کہ صرف اس بات پر فخر رہے کہ ہمیں وہ کتاب دی گئی ہے جس کا مقام سب پہلی شریعتوں سے اعلیٰ ہے بلکہ یہ فکر ر ہے کہ اس کی تعلیم اپنے اوپر لاگو کریں اور اپنے اوپر لاگو کر کے اس کے انعامات کے مستحق خود بھی ٹھہریں اور اپنی نسلوں میں کوشش کر کے اسی تعلیم اور حق تلاوت کو راسخ کرنے کی کوشش کریں۔ورنہ یا د رکھیں اگر ہر احمدی نے اس اہم نکتے کو نہ سمجھا اور صرف اسی بات پر ہم اتراتے رہیں کہ ہم قرآن کو ماننے والے ہیں تو جیسا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس سے بتایا ہے کہ قرآن ایسے پڑھنے اور ماننے والوں پر لعنت کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لئے نیک اعمال کی بجا آوری اصل چیز ہے۔قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنا اصل چیز ہے اور جب تک ہم اس پر قائم رہیں گے ہدایت کے راستے نہ صرف خود پاتے رہیں گے بلکہ دوسروں کو بھی دکھاتے رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یہ قرآن اس سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے جس میں ذرا بھی نہیں اور انسانی سرشت سے بالکل مطابقت رکھتی ہے اور در حقیقت قرآن کی خوبیوں میں سے یہ ایک بڑی خوبی ہے کہ وہ ایک کامل دائرہ کی طرح بنی آدم کی تمام قومی پر محیط ہورہا ہے اور آیت موصوفہ میں سیدھی راہ سے وہی راہ مراد ہے جو آیت میں نے پڑھی تھی کہ جو راہ انسان کی فطرت سے نہایت نزدیک ہے یعنی جن کمالات کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے ان تمام کمالات کی راہ اس کو دکھلا دینا