خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 100
خطبات مسرور جلد ششم 100 خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 2008 پاس مکمل ہیں لیکن بیان ٹھیک نہیں۔اسی کتاب میں پھر ایک جگہ نئے شامل ہونے والوں میں سے ایک سفید فام عورت کو پوچھا گیا کہ کیوں مسلمان ہوئی تھی ؟ تو اس نے یہ جواب دیا کہ مسلمان ہوتے ہوئے کلمہ پڑھ لو تو انسان اس کے بعد اس طرح معصوم ہو جاتا ہے جس طرح ایک نوزائیدہ بچہ۔اور پھر جنت کا تصور ہے کہ اگلے جہاں میں گناہ بخشے جائیں گے۔تو یہ باتیں کہ کلمہ پڑھ کر انسان پاک ہو جاتا ہے اور گناہ بخشے جاتے ہیں، یہ بات کسی طرح بھی اسلام مخالف طبقے کو خاص طور پر مغرب میں برداشت نہیں ہو سکتی۔اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طبقے میں یہ سوال اٹھنا شروع ہو گیا ہے کہ کفارہ کا جو نظریہ ہے وہ غلط ہے۔اپنے گناہوں کی فکر کرنے والے یہ سوچ سکتے ہیں کہ انسان معصوم ہو جاتا ہے اور اگلے جہان میں جنت دوزخ کا سوال ہے، جزا سزا کا سوال ہے اور یہ عیسائیت کے ایک بنیادی دعوے کا رد ہے جو کسی صورت میں بھی ان لوگوں کو برداشت نہیں ہوسکتا۔بہر حال یہ بہت ہی سوچی سمجھی سکیم کے تحت اسلام پر حملے ہیں۔ایک آدھ بات میں نے مختصر بیان کر دی ہے۔کیونکہ یہ مختلف پیپرز ہیں ، مقالے ہیں اور مقالوں کا مجموعہ ہے۔اسلام کے بارے میں بیچ بیچ میں بعض اچھی باتیں بھی ظاہر کی گئی ہیں۔لیکن جو بھی صورت حال ہو جب اس طرح اسلام کی طرف توجہ دلانے والے نتائج سامنے آئیں گے تو اسلام مخالف طاقتوں کا ایک منظم کوشش کے لئے جمع ہونا ضروری ہے اور ضروری تھا، جو وہ ہو گئیں۔اب میں پھر اصل بات کی طرف آتا ہوں جیسا کہ شروع میں میں نے کہا تھا کہ ایسے حالات میں ایک احمدی کا کردار کیا ہونا چاہئے ؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ احمدی جب بیعت کرتا ہے، یہ عہد کرتا ہے کہ میں روحانی تبدیلی کے لئے زمانے کے امام کی بیعت میں آیا ہوں تو وہ خود بخود اس طرف متوجہ ہو کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی بڑھانا ہے جو کہ اس کا حقیقی عبد بن کے ہی بڑھ سکتا ہے، جو کہ عبادتوں کے معیار بلند کرنے سے ہی ہوسکتا ہے۔دوسرے اس تعلیم کی طرف توجہ ہو جو قرآن کریم کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میری کتاب کو اس کا حق ادا کرتے ہوئے پڑھو۔جیسا کہ میں نے ابھی جو آیت تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے: کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی در آنحالیکہ وہ اس کی ایسی تلاوت کرتے ہیں ( جبکہ وہ ایسی تلاوت کرتے ہیں ) جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جو ( در حقیقت ) اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی بھی اس کا انکار کرے پس وہی ہیں جو گھاٹا پانے والے ہیں۔تلاوت کا حق کیا ہے؟ تلاوت کا حق یہ ہے کہ جب قرآن کریم پڑھیں تو جو اوامر و نواہی ہیں ان پر غور کریں۔جن کے کرنے کا حکم ہے ان کو کیا جائے۔جن سے رکنے کا حکم ہے ان سے رُکا جائے۔آنحضرت ﷺ کے سامنے یہود ونصاری کا یہی دعویٰ تھا کہ ہمارے پاس بھی کتاب ہے۔چاہتے تھے کہ مسلمان ان کی بات مان لیں۔تو اللہ تعالیٰ