خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 93
93 خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم شامل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان آیات کی وضاحت فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : میں مَوَاقِعِ النُّجُوم کی قسم کھاتا ہوں ، یعنی ستاروں کے جھرمٹ کی قسم کھاتا ہوں اور یہ بڑی قسم ہے اگر تمہیں علم ہو۔اور قسم اس بات پر ہے کہ یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اور اس کی تعلیمات سنت اللہ کے مخالف نہیں۔بلکہ اس کی تمام تعلیمات کتاب مکنون یعنی صحیفہ فطرت میں لکھی ہوئی ہیں۔ہر ایک انسان کی فطرت میں چھپی ہوئی ہیں اور اس کے دقائق کو وہی لوگ معلوم کرتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں۔اگر اس کا علم ہے ، اس کی گہرائی ہے تو اس کو وہی لوگ معلوم کر سکتے ہیں جن کے دل پاک ہیں۔" ( اس جگہ اللہ جلشانہ نے مَوَاقِعِ النُّجُوم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ کیا کہ جیسے ستارے نہایت بلندی کی وجہ سے نقطوں کی طرح نظر آتے ہیں مگر وہ اصل میں نقطوں کی طرح نہیں بلکہ بہت بڑے ہیں ایسا ہی قرآن کریم اپنی نہایت بلندی اور علوشان کی وجہ سے کم نظروں کے آنکھوں سے مخفی ہے اور جن کی غبار دور ہو جاوے وہ ان کو دیکھتے ہیں اور اس آیت میں اللہ جلشانہ نے قرآن کریم کے دقائق عالیہ یعنی بہت اعلیٰ قسم کے جو گہرے نکات ہیں ان کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں سے مخصوص ہیں جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے پاک کرتا ہے اور یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اگر علم قرآن مخصوص بندوں سے خاص کیا گیا ہے تو دوسروں سے نافرمانی کی حالت میں کیونکر مواخذہ ہوگا کیونکہ قرآن کریم کی وہ تعلیم جو مدار ایمان ہے وہ عام فہم ہے جس کو ایک کافر بھی سمجھ سکتا ہے“۔گہرائی بھی ہے اور عام فہم بھی ہے جس کو اگر سمجھنا چاہے تو سمجھ سکتا ہے۔اور ایسی نہیں ہے کہ کسی پڑھنے والے سے مخفی رہ سکے اور اگر وہ عام فہم نہ وتی تو کارخانہ تبلیغ نقص رہ جاتا۔اگر یہ ہوتا کہ قر آن کریم کی تعلیم عام نہم نہیں ہے ، ہر ایک کو سمجھ نہیں آسکتی گو اس کے بہت گہرے مطالب بھی ہیں لیکن اس کے ظاہری مطلب اس کی تعلیم میں ایسی چیزیں ہیں جو عام فہم ہیں، سمجھ آ جاتی ہے۔اگر اس میں یہ نہ ہوتا تو فرمایا کہ " کارخانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا۔پھر تبلیغ کس طرح ہوتی ؟ لوگوں کو سمجھاتے کس طرح؟ ہر ایک تو قرآن کریم کے علم کے اتنے گہرے معارف نہیں رکھتا۔تو یہ ہر آدمی کو مجھ بھی آتی ہے مگر حقایق معارف چونکہ مدار ایمان نہیں صرف زیادتِ عرفان کے موجب ہیں اس لئے صرف خواص کو اس کو چہ میں راہ دیا۔جو خاص خاص باتیں ہیں، جو معرفت کی بہت گہری باتیں ہیں ان پر صرف مدار ایمان نہیں ہے۔یا یہ کہ صرف ان کی وجہ سے ایمان مضبوط نہیں ہوتا۔یہ تو صرف قرآن کریم کی تعلیم کا جو عرفان ہے اس میں زیادت کا موجب ہے۔اس لئے صرف خواص کو اس کو چہ میں راہ دیا۔صرف خاص خاص لوگوں کو اس کی باتیں سمجھائی گئی ہیں ” کیونکہ وہ دراصل مواہب اور روحانی نعمتیں ہیں جو ایمان کے بعد کامل الایمان لوگوں کو ملا کرتی ہیں۔“ کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 53-52)