خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 89 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 89

89 خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم پھر ایک نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہ Moral اچھی بات ہے لیکن ڈبل Moral یقیناً اور بھی اچھا ہونا چاہئے۔پھر لکھتے ہیں کہ: میں ان دنوں اپنے ڈینیش ہونے پر شرمندہ ہوں اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اکثریت جو اس گروپ میں ہے وہ میری طرح جذبات رکھتے ہیں۔پھر ایک نے لکھا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ ڈینش جرنلسٹ آزادی رائے کے صحیح مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ سے کاغذ قلم اور دوات کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ایک نے لکھا کہ یہ جو کچھ بھی ہے یہ آزادی اظہار کا غلط استعمال ہے۔سب سے زیادہ شائع ہونے والے ایک اخبار ایویسن ڈی کے Avisen DK) نے اپنی اشاعت 25 فروری میں ایک صاحب کا یہ تبصرہ لکھا ہے کہ مجھے محمد کے کارٹون کے مسئلہ پر اظہار کی اجازت دیجئے۔میرے خیال میں یہ ایک وحشیانہ اور خبیثانہ حرکت ہے کہ اپنے کسی ہمسائے کے کارٹون بنا کر اپنے گھر کے سامنے لٹکائے جائیں جہاں وہ اسے دیکھ بھی سکتا ہو اور پھر منافقانہ طور پر یہ دعوی بھی کیا جائے کہ میں اپنے ہمسائے سے اچھا ہوں کیونکہ میں اس سے اپنے ہمسایہ کے طور پر محبت کرتا ہوں۔پھر ایک تبصرہ ہے کہ اپنے ہمسائے کو دکھ دینے کی بات ہمیشہ بری ہے۔اگر اسلام کے بارے میں کوئی تنقیدی بات کی جائے تو یہ تو بجا ہے مگر اس طرح خاکوں کی اشاعت تو محض کسی کو دکھ دینا ہے۔پھر Kristelig Dagblad ایک مذہبی اخبار میں ایک ڈینش کا تبصرہ شائع ہوا ہے کہ آزادی ضمیر کو خطرہ مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ پریس منسٹرز اور سیاستدانوں کی طرف سے ہے کیونکہ وہ اس کے ردعمل کے طور پر مسلمانوں کو آزادی رائے کا حق دینے کو تیار نہیں۔پھر ایک صاحب جو عیسائی کمیونٹی کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر ہیں ، انہوں نے بائبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کارٹون کی اشاعت عیسائیت کی تعلیم کے بھی سراسر منافی ہے۔نیز لکھا کہ: ایسی حرکات کو محض حماقت کے نام سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔پھر کہتے ہیں کہ ڈینش محاورہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کوئی عہدہ دیتا ہے تو اس کو عقل بھی دیتا ہے۔یہ لکھنے کے بعد کہتے ہیں: اس قسم کی حرکات کو دیکھ کر اہل حل و عقد میں عقل کی کمی نظر آتی ہے۔اس طرح کے بے شمار تبصرے ہیں جو انہوں نے کئے۔یہ جو اسلام کے خلاف مہم ہے اس میں جیسا کہ ان تراشوں سے پتہ چلتا ہے بہت سے شرفاء شامل نہیں۔یہ ایک بہت بڑی مہم ہے اس میں صرف ایک آدھ کارٹونسٹ یا چند مبر پارلیمنٹ یا سیاسی لیڈر بنے کا شوق رکھنے والوں کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری سازش ہے اور اس کے پیچھے بڑی طاقتیں ہیں جو اسلام کی تعلیم سے خوفزدہ ہیں۔جو اپنے عوام کو یہ سمجھنے ہی نہیں دینا چاہتیں کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔جو مذہب کے نام پر اصل میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتی ہیں۔جو اسلام سے پندرہ سو سال پرانی دشمنی کا