خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 85

خطبات مسرور جلد ششم 85 خطبه جمعه فرمود ه 22 فروری 2008 ہی ہے کہ نماز پر مداومت کی جائے اور وساوس اور شبہات سے پریشان نہ ہو۔یعنی یہ حالت کس طرح اختیار کی جائے کہ نماز میں با قاعدگی ہو۔پانچ نمازیں ہیں۔پوری طرح نمازیں ادا کرنے کا جو حق ہے اس طرح ادا کی جائیں، کسی قسم کے وسوسے اور شبہات جو دل میں پیدا ہوتے ہیں ان سے پریشان نہ ہو۔’ابتدائی حالت میں شکوک وشبہات سے ایک جنگ ضرور ہوتی ہے اس کا علاج یہی ہے کہ نہ تھکنے والے استقلال اور صبر کے ساتھ لگار ہے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتا ر ہے، آخر وہ حالت پیدا ہو جاتی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے“۔الحکم جلد نمبر 14۔17 اپریل 1901 صفحہ 1) شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں۔وسو سے پیدا ہوتے ہیں۔دل کی کیفیت وہ پیدا نہیں ہوتی۔ظاہری حالت اور زبان تو چل رہی ہوتی ہے لیکن دل میں وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔فرمایا لیکن صبر سے مستقل مزاجی سے دعاؤں میں لگا رہے، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتار ہے ، اس سے نماز میں لذت و سرور حاصل کرنے کے لئے مانگتا رہے تو آخر کار ایک وقت آئے گا جب ایسی حالت پیدا ہو جائے گی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے، استغفار ہے اور درود شریف۔تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے۔لوگ پوچھتے ہیں کہ کوئی وظیفہ فرمایا سب سے بڑا وظیفہ نماز ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد بھی بیان ہوتی ہے، انسان استغفار بھی کرتا ہے، درود شریف بھی پڑھتا ہے اور یہی چیزیں ایسی ہیں جو دعاؤں کی قبولیت کا نشان دکھانے والی ہیں، وجہ بننے والی ہیں۔فرمایا: ” اور اس سے ہر قسم کے غم و ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ا لا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: آیت (29) اطمینان، سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں“۔الحکم جلد نمبر 7۔مورخہ 31 مئی 1903 صفحہ 9) پس یہ ہیں وہ معیار جو ہم نے حاصل کرنے ہیں کہ نہ صرف نمازوں میں با قاعدگی ہو بلکہ ہمارے جسم کا ہر ذرہ اور ہماری روح بھی اس کے آگے جھک جائے۔ہمارے سینے سے ابل ابل کر وہ دعائیں نکلیں جو ہمیں خدا کا مقرب بنادیں۔ہم اپنی ذات میں وہ انقلاب برپا ہوتا دیکھیں جس میں صرف اور صرف خدائے واحد کی رضا نظر آتی ہو۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک یہ نظارے دیکھنے والا ہو۔آمین الفضل انٹر نیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 11 مورخہ 14 مارچ تا 20 مارچ 2008ء صفحہ 5 تا صفحہ 8)