خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 86
خطبات مسرور جلد ششم 98 86 9 خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 فرمودہ مورخہ 29 فروری 2008ء بمطابق 29 تبلیغ 1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے دوبارہ کھل کر اسلام پر حملے کئے جارہے ہیں، آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک پر حملے کئے جارہے ہیں۔قرآن کریم پر، اس کی تعلیم پر حملے کئے جارہے ہیں۔کوشش یہ ہے کہ اسلام کو بدنام کیا جائے۔وجہ کیا ہے؟ کیوں بدنام کیا جائے؟ اس لئے کہ یہ ایک ایسا مذہب ہے جو زمانے کی ضروریات پوری کرنے والا ہے اور قرآن کریم کی تعلیم کو دیکھ کر لوگوں کا رخ اسلام کی طرف ہو رہا ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض جگہ بعض مسلمانوں کے عمل دیکھ کر لوگوں میں نفرت کے جذبات بھی ابھرتے ہیں لیکن یہ جو اسلام مخالف مہم شروع ہوئی ہے یا کوششیں ہورہی ہیں، یہ کوششیں مذہب سے دلچسپی رکھنے والوں کو اسلام کی تعلیم دیکھنے اور سمجھنے کی طرف بھی مائل کر رہی ہیں ، اس تعلیم کو جو قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اتاری ہے۔یہ تعلیم حقیقت پسندانہ اور فطرت کے مطابق ہے۔ایسے لوگوں نے جو مذہب میں دلچسپی رکھتے ہیں جو خالی الذہن ہوتے ہیں ، انہوں نے قرآن کریم کو پڑھ کر اس پر غور بھی کیا ہے۔گو کہ صرف ترجمہ سے اس کی گہرائی کا علم نہیں ہوتا۔ان پیغاموں کا پتہ نہیں چلتا جو قرآن کریم میں ہیں لیکن پھر بھی یہ ان کی کوشش ہوتی ہے۔بعض جو سعید فطرت ہیں ان کو سمجھ بھی آجاتی ہے۔گزشتہ دنوں اخبار میں ایک کالم تھا یہاں کی ایک خاتون ہیں رڈلی۔اگر کوئی نام میں غلطی ہو تو کیونکہ یہ اردو میں چھپا ہوا تھا اس لئے غلطی کا امکان ہے۔بہر حال وہ خاتون پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں اور اسی پیشے کی وجہ سے وہ افغانستان گئیں۔وہاں عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔بہر حال برقعہ پہن کر بھیس بدل کر وہاں گئیں۔کچھ عرصہ کام کیا، پکڑی گئیں ، آخر اس وعدے پر رہا ہوئیں کہ قرآن کریم پڑھیں گی۔یہاں واپس آ گئیں ، بھول گئیں لیکن پھر جو اسلام کے خلاف یہاں مہم شروع ہوئی، اس نے ان کو یاد کرایا کہ میں نے طالبان سے وعدہ کیا تھا کہ قرآن کریم پڑھوں گی۔خیر اس خاتون نے قرآن کریم خریدا اور اس کو پڑھا اور اسے اس بات سے سخت دھچکا لگا کہ عورتوں سے سلوک کے بارے میں قرآن کریم کی جو تعلیم ہے اس میں، اور جو طالبان یا وہ لوگ جو اپنے آپ کو بہت اسلام پسند ظاہر کرتے ہیں ان کا عورتوں کے بارے میں جو سلوک ہے، اس میں بڑا فرق ہے۔بہر حال قرآن کریم کو پڑھ کر ،