خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 59

59 خطبه جمعه فرموده 8 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم آگے سے کوئی رد عمل نہیں ہوا۔ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ نئی نسل میں اس قدر خوف پیدا کر دو کہ یہ بچے اگر احمدی رہیں بھی تو فعال احمدی نہ رہیں۔ان کے خیال میں ہمارے جلسے بند کر کے، ہمارے تربیتی پروگرام بند کر کے جور بوہ میں ہوا کرتے تھے، انہوں نے ہمیں معذور کر دیا ہے اور نئی نسل شاید اس طرح احمدیت سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔اگر مزید تھوڑا سا تنگ کیا جائے اور ان پر سختیاں کی جائیں تو یہ مزید دور ہٹ جائیں گے۔ان عقل کے اندھوں کو یہ پتہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے جلائے ہوئے چراغ ان کی پھونکوں سے نہیں بجھ سکتے۔مجھے پاکستان سے نوجوانوں کے اخلاص و وفا میں ڈوبے ہوئے جتنے خطوط آتے ہیں وہ یقیناً اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ نو جوان اپنے اس عہد کو پورا کرتے ہیں کہ ہم خلافت احمدیہ کی خاطر اپنے مال، جان ، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر دم تیار ہیں۔قربانی کر رہے ہیں اور ہر وقت کرتے چلے جائیں گے اور دشمن کبھی ہمارے قدموں میں لغزش پیدا نہیں کر سکتا۔پس جن کا خلافت سے پختہ تعلق ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ صل الله الصلوۃ والسلام کے تعلق کی وجہ سے ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق آنحضرت تحلیلی تعلق کی وجہ سے ہے اور آنحضرت ﷺ کی ذات خدا تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔پس جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس پہ پختہ ایمان ہو ان کو یہ گیڈر بھبکیاں بھلا خوفزدہ کر سکتی ہیں؟ کبھی نہیں اور کبھی نہیں۔پس اے نو جوانو ! اپنے خدا سے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے جاؤ کہ یہی ایک احمدی نوجوان کی شان ہے۔یہی ایک ނ احمدی مرد کی شان ہے۔یہی ایک احمدی عورت کی شان ہے اور یہی ایک احمدی بچے کی شان ہے۔اسی طرح ہندوستان میں جس جگہ مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں ملاؤں کی طرف سے احمدیوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ایسے لوگ اسلام کے نام پر تنگ کر رہے ہیں۔نام کے مسلمان ہیں۔نہ کسی کو نماز آتی ہے، نہ کلمہ، نہ قرآن شریف پڑھ سکتے ہیں۔صرف یہ ہے کہ احمدی مسلمان نہیں یہ کافر ہیں۔ہمارے مبلغین اور معلمین کو دھمکیاں دی جاتی ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ احمدی کا کام ہے کہ ہم اپنے وہ کام کئے جائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگائے ہیں اور ان سختیوں اور ابتلاؤں کا مقابلہ اللہ کے آگے جھکتے ہوئے دعاؤں سے کرتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔اور یہ مخالفتیں اس لئے بھی زیادہ ہو رہی ہیں اور مخالفین اس لئے بھی زیادہ مخالفت پر کمر بستہ ہیں کہ ان کی حسد کی آگ ان کو اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعداب خلافت احمد یہ کوبھی 100 سال پورے ہو گئے ہیں۔وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم جن کو اپنے زعم میں ختم کرنے کے لئے اکٹھے ہو گئے تھے یہ تو اپنی خلافت کا بھی 100 سالہ جشن تشکر منا رہے ہیں۔پس یہ مخالفتیں تو خود ہمیں یہ ثبوت دے رہی ہیں کہ جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔گزشتہ چند سالوں سے انڈونیشیا میں بھی مخالفت زوروں پر ہے۔احمدی گھروں کو لوٹا گیا، توڑا پھوڑا گیا، جلایا گیا، مسجدوں کو جلایا گیا، تو ڑا گیا۔حکومت بھی شروع میں ملاں کے خوف کی وجہ سے ان کا ساتھ دے رہی تھی یا بعض صوبوں میں جہاں اور جن علاقوں میں یہ فساد زیادہ ہو رہا تھا شاید حکومتیں بھی ملاں پسند ہوں۔بہر حال اتنے عرصے سے جماعت کے خلاف ان مظالم کو دیکھتے ہوئے اور ہمارے مختلف طریقوں سے حکومت کو توجہ دلانے کی وجہ سے مرکزی حکومت نے اس مسئلے کے حل کا فیصلہ کیا اور ایک معاہدہ لکھا گیا جس کی خبر اخبار نے لگائی۔بعض الفاظ لے لئے اور بعض چھوڑ دیئے۔تفصیل شائع نہیں کی گئی جس سے معاہدہ پوری طرح واضح نہیں ہوتا تھا۔اس بات کا میں گزشتہ کسی خطبہ میں ذکر بھی کر چکا ہوں۔بہر حال یہ خبر اخبار کے حوالے سے انٹرنیٹ پر بھی آئی۔شاید میرے گزشتہ خطبہ کے حوالے اور انٹرنیٹ کی خبر کو دیکھ کر بعض احمدیوں نے جن کو صحیح حالا کا علم نہیں ، اپنی لاعلمی میں اس بات کا اظہار