خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 464
464 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 7 نومبر 2008 حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ اس کی اس طرح وضاحت فرمائی کہ دریا کا کنارہ تو پانی میں گرتا ہے۔اب دریا چوڑا ہو جاتا ہے۔اس سے مزید لوگوں کو فائدہ ہی ہوتا ہے لیکن نفاق کا کنارہ آگ میں گرتا ہے۔جو مسجد میں خالص اللہ کی رضا کے لئے نہ ہوں وہ اس مسجد کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی بتایا ہے کہ وہ آگ میں گرنے والی مسجد تھی۔ہم تو نفاق سے پاک اور خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کام کرنے والے لوگ ہیں۔ہماری مسجدیں تو انشاء اللہ ان مسجدوں کا کردار ادا کرنے والی ہیں جو ہر قربانی کرنے والے کے لئے جنت میں گھر بنانے کی ضمانت دینے والی ہیں۔الله پس اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ مثال دے کر منافقین اور مخالفین کی ایسی حرکتوں کا ذکر کیا ہے جن سے مومنوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو یا یہ ارادہ ہو کہ ہمیں نقصان پہنچانا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ تسلی بھی دلائی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہ کوشش ناکام ہوئی۔تو آئندہ بھی اگر مومن ، خالص مومن، ایمان کا مظاہرہ کرتے رہیں گے اور تقویٰ پر قائم رہیں گے تو خدا تعالیٰ مومنوں کی جماعت کو ہر شر اور تکلیف سے بچانے کے سامان پیدا فرما تا رہے گا۔لیکن یہاں مومنوں پر بھی ذمہ داری ڈالی ہے کہ اس مسجد کی مثال تمہارے سامنے ہے جس کی بنیاد میں تقویٰ پر اٹھائی گئیں۔اس سے مراد مسجد نبوی ہے جس کی بنیادیں عاجزی اور دعاؤں سے اٹھائی گئیں جو تقویٰ کے قیام کے لئے بنائی گئی۔پس آئندہ بھی مومن ہمیشہ اپنے سامنے وہ نمونے رکھیں جو آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ نے اس مسجد کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے قائم کئے تھے۔ورنہ کوئی ضمانت نہیں کہ تمہاری مساجد تمہیں خدا کا قرب دلانے والی بنیں۔پس اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے اپنے دلوں کو پاک کرنے کی خواہش رکھنا اور اس کے لئے تقویٰ پر قدم مارنا انتہائی ضروری چیز ہے۔پس ہر احمدی جب بھی مسجد بنائے اسے ہر وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کی تعمیر کا مقصد ایک خدا کی عبادت کرنا اور تقویٰ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔تقویٰ کیا ہے یا متقی کون ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”اللہ تعالیٰ کے خوف سے اور اس کو راضی کرنے کے لئے جو شخص ہر ایک بدی سے بچتار ہے اس کو متقی کہتے ہیں“۔ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ " قرآن شریف تقوی ہی کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اس کی علت غائی ہے۔یعنی تقوی ہی اس کا بنیادی مقصد ہے۔فرمایا کہ اگر انسان تقوی اختیار نہ کرے تو اس کی نمازیں بھی بے فائدہ اور دوزخ کی کلید ہو سکتی ہیں“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ 411۔الحکم جلد 11 نمبر 28 مورخہ 10 اگست 1907ء صفحہ 14)