خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 336 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 336

336 خطبه جمعه فرمود ه 22 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس پہلی بات ہر احمدی کو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بیعت میں آنے والوں کو مخلصین “ کے پیارے لفظ سے مخاطب فرمایا ہے۔یعنی ایسے خالص ہو کر پیار کرنے والے جن میں کوئی کھوٹ نہ ہو، جن کی دوستی بغیر کسی ذاتی مفاد کے ہوں، بغیر کسی نام ونمود کے اخلاص و وفا کا تعلق ہو۔اخلاص اس مکھن کو بھی کہتے ہیں جو تلچھٹ سے علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔پس یہ مقام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دیا ہے یا ہم سے توقع رکھی ہے کہ ہم یہ مقام حاصل کریں اس کو حاصل کرنے کی ہم کو کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے مخلصین کی جو خوبیاں بیان فرمائی ہیں وہ اگر ہر لمحہ ہمارے سامنے ہوں تو یقیناً ہم ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جن پر دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور ان کے دلوں میں اگر کسی کی محبت قائم ہوتی ہے تو وہ اللہ ا وراس کے رسول کی محبت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کو عورت کے بُرائی کی طرف بلانے پر اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی ذات کے حقیقی فہم و ادراک کی وجہ سے برائی سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت یوسف کے بارے میں فرماتا ہے کہ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ (یوسف: 25) یعنی وہ یقیناً ہمارے پاک اور برگزیدہ بندوں میں سے تھا اور اس پاکیزگی نے انہیں بچالیا اور اگر انسان حقیقی رنگ میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والا ہو تو یہ خوف اور پاکیزگی ہی ہے جو ہر ایک کو برائی سے بچانے والی ہوگی۔ایک دوسری جگہ فرمایا پھر جب شیطان نے کہا کہ اے اللہ ! میں تیرے بندوں کو ضرور گمراہ کروں گا اور انہیں دنیا کی چمک دمک کے ایسے انداز دکھاؤں گا کہ ان کی اکثریت ضرور میرے پیچھے چلے گی اور تجھے بھول جائیں گے تو شیطان نے ایک جگہ اپنی ہار مانتے ہوئے یہ اعلان کیا اور کہا کہ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ (الحجر:41) مگر جو تیرے مخلص بندے ہیں ، جن کی محبت تیرے اور تیرے رسولوں کے ساتھ ہے اور اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہے جن کی محبت اللہ اور رسول کے ساتھ خالص ہے وہ میرے دام میں نہیں آسکیں گے۔جن کی بیعت زمانہ کے امام کے ساتھ ان شرائط بیعت کو سامنے رکھتے ہوئے خالص ہے کہ ہم اس پر ہمیشہ عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔شیطان کہتا ہے کہ وہ میرے دام میں نہیں آسکیں گے۔ان کو میں جتنی بھی دنیا کی چمک دمک دکھاؤں وہ میرے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔پھر ایک جگہ قرآن کریم میں کفار کا ذکر ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک شاعر اور ایک مجنون کے کہنے پر اپنے محبوبوں کو چھوڑ دیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقینا محمد رسول اللہ ہے سچے رسول ہیں اور نہ صرف خود سچے رسول ہیں بلکہ پہلے رسولوں کی سچائی بھی آپ کی وجہ سے آج کھل کر ثابت ہورہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ اگر آنحضرت ﷺ نہ آتے تو ہم پر پہلے رسولوں کی