خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 161

خطبات مسرور جلد ششم 161 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 اپریل 2008 اور اس کے باشندوں کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔(مستدرک علی الصحيحين۔جلد نمبر 2 كتاب المناسک حدیث نمبر 1668۔ایڈیشن2002ء) سفر شروع کرتے وقت کی دعاؤں میں سے ایک یہ بھی دعا آپ نے ہمیں بتائی ، حضرت عبداللہ بن سَرْ حِس کہتے ہیں کہ رسول اللہ یہ سفر شروع کرتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے کہ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُبِكَ مِنْ وَعْشَاءِ السَّفَرِ وَكَابَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ۔وَدَعْوَةِ الْمَظْلُوْمِ وَسُوْءِ الْمَنْظَرِ فِي الْاهْلِ وَالْمَالِ (سنن ابن ماجہ۔باب الدعاء باب ماید عوبه الرجل اذا سافر۔حدیث نمبر 3888) اے اللہ میں سفر کی مشکلات سے اور سفر سے رنج اور غم کے ساتھ لوٹنے سے اور نفع کے بعد نقصان سے اور مظلوم کی دعا سے اور گھر میں اور مال میں برے نظارے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔پھر روایت میں ہے حضرت ام سلمی بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا یہ عمل تھا کہ جب وہ اپنے گھر سے نکلتے تو یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا میں پھسل جاؤں یا میں ظلم کروں یا میرے پر ظلم کیا جائے یا میں جہالت کروں یا مجھ سے جہالت کا سلوک کیا جائے۔(سنن ابن ماجہ۔باب الدعاء۔باب ما یدعو به الرجل اذا خرج من بیتہ حدیث نمبر 3884) پھر سفر شروع کرتے وقت آنحضرت ﷺ کی بعض دعاؤں کا انگلی روایت میں ذکر ملتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ یہ سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی پر تشریف فرما ہو کر اپنی انگلی کے اشارے سے کہتے کہ اے اللہ ! تو ہی سفر میں اصل ساتھی ہے اور تو ہی گھر والوں میں اصل جانشین ہے۔اے اللہ اپنی خیر خواہی کے ساتھ تو ہمیں لے کر جا اور ہمیں اپنے ذمہ میں ہی واپس لانا ( اپنی پناہ میں ہی واپس لانا)۔اے اللہ ! ہمارے لئے زمین کو لپیٹ دے اور اس سفر کو ہمارے لئے آسان کر دے۔اے اللہ ! میں سفر کی تکلیف اور مشقت سے اور سفر سے رنج اور غم کے ساتھ لوٹنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔( سنن الترمذی کتاب الدعوات باب ما یقول اذا خرج مسافرا۔حدیث نمبر 3438) پھر ایک روایت میں ذکر ہے۔عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول الله ی سفر پر نکلتے وقت ایک سواری پر جب اچھی طرح بیٹھ جاتے تو آپ تین مرتبہ تکبیر کہتے پھر آپ پڑھتے ، پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے سواری کو مسخر کیا یعنی وہی قرآن کریم کی دعا ہے سُبُحْنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ۔وَإِنَّا إِلَى رَبَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ (الزخرف: 14-15) کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے سواری کو مسخر کیا اور ہماری طاقت میں نہیں تھا کہ اس پر قابو پاسکیں اور اے ہمارے رب ! یقینا ہم تیری طرف ہی لوٹ کر آنے والے ہیں۔اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور تقویٰ طلب کرتا ہوں اور