خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 105
105 خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: قرآن کریم کی تلاوت ایک ماہ میں مکمل کیا کرو۔اس پر میں نے عرض کیا کہ میں اس سے جلدی پڑھنے کی قوت پاتا ہوں۔اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا: پھر ایک ہفتہ میں مکمل کیا کرو اور اس سے پہلے تلاوت قرآن مکمل نہ کرنا۔( بخاری کتاب فضائل القرآن باب فی کم یقرء القرآن حدیث نمبر 5054) پس اگر وقت ہے تو پھر بھی اجازت نہیں کہ ایک ہفتہ سے پہلے قرآن کریم کا دور پورا مکمل کیا جائے کیونکہ فکر اور غور نہیں ہوسکتا۔جلدی جلدی پڑھنا صرف مقصد نہیں ہے۔اس بات سے صحابہ کے شوق تلاوت کا بھی پتہ لگتا ہے کہ ان کے نزدیک اس کی کتنی اہمیت تھی۔اور یہ جو ہمارا زمانہ ہے اس زمانہ میں قرآن کریم کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوگئی ہے کیونکہ ترجیحات بدل گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: میں نے قرآن کے لفظ میں غور کی تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیشگوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے قابل کتاب ہو گی جب کہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہوگی اور دیگر کتا بیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔الحکم جلد 4 نمبر 37 مورخہ 17 اکتوبر 1900 صفحہ 5) پس یہ ایک اہم نکتہ ہے جسے ہر احمدی کو یا درکھنا چاہئے کہ اس زمانے میں اس کتاب کو پڑھنے سے مخالفین کے منہ بند کئے جاسکتے ہیں اور یہی اسلام کی عزت بچانا ہے۔لیکن کیا صرف پڑھنا کافی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ بڑے واضح ہیں کہ اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے۔یعنی قرآن کریم میں وہ دلائل ہیں جن سے اسلام کی عزت قائم ہوگی اور اُس جھوٹ کی جو مخالفین اسلام پر افتراء کرتے ہیں ، جڑیں اکھیڑی جائیں گی۔اور یہی اصول ہے جس سے اسلام کی عزت بچائی جائے گی۔جھوٹ کا خاتمہ اس وقت ہو گا جب ہمارے ہر عمل میں اس تعلیم کی چھاپ نظر آ رہی ہوگی اور یہ چھاپ بھی اس وقت ہوگی جب ہم اس پر غور کرتے ہوئے با قاعدہ تلاوت کرنے والے بنیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔یعنی جو چاہتے ہیں کہ قرآن کریم کے بغیر فتح حاصل ہو جائے۔صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔دیکھو انہوں نے جب پیغمبر خدا ﷺ کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے تھے، پورے ہو گئے۔ابتداء میں مخالف ہنسی کرتے تھے کہ باہر آزادی سے نکل نہیں سکتے اور بادشاہی