خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 87
خطبات مسرور جلد ششم 87 خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 اس تعلیم کو پڑھ کر یہ مسلمان ہوگئیں اور مسلمان ہونے کی وجہ سے جب ان کو بڑا اچھالا گیا تو ایک مسلمان ملک شاید قطر کے ایک میڈیا کے مالک نے ان کو اپنے پاس ملازم رکھ لیا۔یہ یورپ کی پلی بڑھی تھیں، دنیاوی تعلیم بھی تھی تو انہوں نے جرنلزم میں، اپنی صحافت کے پیشے میں وہاں یہ پالیسی رکھی کہ حق کو حق کہنا ہے اور سچائی کو ظاہر کرنا ہے۔کوئی بڑے سے بڑا بھی ہو تو اس کے خلاف حق بولنے سے نہیں رکنا۔اس بات سے مالکان اور ان کے درمیان اختلاف ہو گیا اور ان کو فارغ کیا گیا۔لیکن انہوں نے وہیں ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ کیا اور اپنے حق کے لئے لڑیں کہ عورت کے یہ یہ حقوق ہیں اور انصاف کا یہ یہ تقاضا ہے۔آخر وہ مقدمہ جیت گئیں۔پھر ایک اور جگہ ملازم ہوئیں۔وہاں سے بھی اسی بات پر نکالا گیا۔وہاں بھی کیس لڑا۔مقدمہ جیت گئیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسلمان عورت کے جو حقوق ہیں اور ایک مسلمان کے جو حقوق ہیں، مسلمان حکومت کو اس کو ادا کرنا چاہئے۔بہر حال یہ کیس وہ جیتی رہیں اور اس بات پر ان کا ایمان جو بھی تھا، مزید مضبوط ہوتا رہا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو پڑھ کر اس خاتون کا قرآن کریم پر ایمان بڑھا، باوجود اس کے کہ جو بہت سارے تجربات ان کے سامنے آئے وہ اس کے بالکل خلاف تھے۔لیکن انہوں نے قرآن کریم کی تعلیم کو برانہیں کہا۔ان لوگوں کے خلاف جہاد کیا جو اس تعلیم کے خلاف جار ہے تھے۔اس طرح کی مثالیں جب اسلام مخالف طبقے کے سامنے آتی ہیں تو ان کو فکر ہوتی ہے۔اپنے مذہب سے انہیں لگاؤ ہو یا نہ ہولیکن اسلام سے دشمنی انہیں ہر گھٹیا سے گھٹیا حرکت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔انبیاء کی جماعتوں سے اسی طرح ہوتا ہے اور اسلام کیونکہ عالمی مذہب ہے اس لئے سب سے بڑھ کر اس کے ساتھ ہوتا ہے۔مکہ میں جب آنحضرت ﷺ کے ساتھ چند لوگ تھے تو کفار مذاق اڑایا کرتے تھے۔پھر جب قرآن کریم کی تعلیم نے ان میں سے سعید روحوں کے دلوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو پھر انہیں فکر پڑنی شروع ہوئی ، پھر مخالفت شروع ہوئی۔وہی عمر جو آنحضرت ﷺ کے قتل کے در پہ تھے وہی عمر قرآن کریم کی ایک آیت سن کر ہی اس قدر رگھائل ہوئے کہ اپنا سر آنحضرت ﷺکے کے پاؤں میں رکھ دیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ مقام عطا فر مایا کہ خلفاء راشدین میں سے دوسرے خلیفہ ہوئے۔پس یہ چیزیں دیکھ کر کفار کی مخالفت بجا تھی۔ان کو بھی نظر آ رہا تھا کہ یہ تھوڑے عرصہ میں ہمارے شہر پر قابض ہو جائیں گے۔مکہ کی وجہ سے ان کی جو انفرادیت تھی وہ ختم ہو جائے گی۔یہ تو ہماری نسلوں کو بھی اپنے اندر جذب کر لیں گے۔پھر اسلام کا پیغام مزید پھیلا۔اس خوف کی وجہ سے مخالفت بھی شروع ہوئی۔ہجرت کرنی پڑی۔اسلام کا پیغام مزید دنیا میں پھیلتا چلا گیا۔آنحضرت ﷺ مدینہ گئے وہاں پیغام پھیلا تو یہودیوں نے اس بات کو محسوس کیا اور سمجھا کہ ہماری تو نسلیں بھی اب ان کی لپیٹ میں آتی چلی جائیں گی۔پھر مزید وسعت ہوئی تو قیصر و کسریٰ کی حکومتیں بھی پریشان ہونے لگیں۔وہ بھی سب اسلام کے خلاف صف آراء ہو گئیں۔اور آج تمام دنیا کے