خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 84

84 خطبه جمعه فرمود ه 22 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم ساتھ حال دکھایا۔پھر تیسرا قول ہے کہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى أَعْلَى اَفْعَلُ التَّفْضِيل ہے، یہ بالذات سجدہ کو چاہتا ہے“۔اعلیٰ جو ہے وہ سب سے بڑی چیز ہے اور یہ اپنی ذات میں سجدے کو چاہتا ہے۔جو اعلیٰ چیز ہو اس کے سامنے سجدہ کیا جاتا ہے۔اس لئے اس کے ساتھ حالی تصویر سجدہ میں گرے گا۔یعنی اس وقت اپنا حال یہ ہوگا کہ زبان سے سُبْحَانَ رَبِّي الاغلی کہا ہے تو سجدہ میں بھی ساتھ ہی گر جائے کہ اللہ تعالیٰ سب سے اعلیٰ ہے اور میں اس اعلیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہوں۔اور اس اقرار کے مناسب حال ہیئت فی الفور اختیار کرلی یعنی سُبْحَانَ رَبِّي الاغلی کا جو اقرار کیا وہی حالت اپنی اختیار کر لی۔اس قال کے ساتھ تین حال جسمانی ہیں۔یعنی یہ جو باتیں کی گئیں، زبان سے الفاظ ادا کئے گئے ان کے ساتھ تین جسمانی حالتیں بھی ہیں۔ایک تصویر اس کے آگے پیش کی ہے۔ہر ایک قسم کا قیام بھی کرتا ہے۔زبان جو جسم کا ٹکڑا ہے، اس نے بھی کہا اور وہ شامل ہوگئی۔تیسری چیز اور ہے“۔فرماتے ہیں، یہ دو چیزیں تو ہو گئیں۔زبان بھی شامل ہو گئی۔دعا کی اور اپنی ظاہری حالت جسم کی بھی وہ بنالی۔کھڑے ہوئے تعریف کی عظمت بیان کی ، رکوع کیا، اللہ تعالیٰ کا اعلیٰ ہونا ، افضل ترین ہونا بیان کیا تو سجدہ کیا لیکن تیسری چیز ایک اور ہے اور وہ ہے، فرمایا کہ " تیسری چیز اور ہے وہ اگر شامل نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی۔وہ کیا ہے؟ فرمایا: ” وہ قلب ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ قلب کا قیام ہو اور اللہ تعالیٰ اس پر نظر کر کے دیکھے کہ درحقیقت وہ حمد بھی کرتا ہے اور کھڑا بھی ہے“۔تیسری چیز جو ہے وہ دل ہے۔یہ ساری حرکتیں جب ہو رہی ہوں، زبان بھی اقرار کر رہی ہو، جسم بھی اظہار کر رہا ہو، تو دل میں بھی وہی کیفیت ہو اور یہ جو کیفیت ہے وہ اللہ تعالیٰ کو نظر آ رہی ہو۔وہ دیکھے کہ درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر رہا ہے۔اور کھڑا ہے اسی طرح تعریف کرنے کے انداز میں۔اور روح بھی کھڑا ہوا حمد کرتا ہے“۔دل بھی کھڑا ہے، روح بھی کھڑ احمد کرتا ہے۔جسم ہی نہیں بلکہ روح بھی کھڑا ہے اور جب سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم کہتا ہے تو دیکھے کہ اتنا ہی نہیں کہ صرف عظمت کا اقرار ہی کیا ہے۔نہیں، بلکہ ساتھ ہی جھکا بھی ہے“۔ظاہری حالت ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی روح بھی جھک گیا ہے۔روح میں بھی محسوس ہو کہ میں جھک گیا ہوں۔پھر تیسری نظر میں خدا کے حضور سجدے میں گرا ہے اس کی علوشان کو ملاحظہ میں لا کر اس کے ساتھ ہی دیکھے کہ روح بھی الوہیت کے آستانہ پر گرا ہوا ہے۔زبان بھی الفاظ ادا کر رہی ہے، جسم بھی اس طرح جھکا ہوا ہے اور دل کی بھی وہی کیفیت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے بالکل سجدہ ریز ہو گیا ہے۔غرض یہ حالت جب تک پیدا نہ ہولے اس وقت تک مطمئن نہ ہو کیونکہ يُقِيمُونَ الصَّلوة کے یہی معنی ہیں۔یہ ہر مومن کا کام ہے کہ یہ تین حالتیں اپنے اندر پیدا کرے۔زبان جب بول رہی ہے تو جسم سے اس کا اظہار ہو اور دل میں اس کو احساس ہو اور ایسا احساس کہ جس کو خدا تعالیٰ پہچان سکے۔تو فرمایا اگر یہ حالت نہیں ہے تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونا اور يُقِيمُونَ الصَّلوةَ کے یہی معنی ہیں۔اگر یہ سوال ہو کہ یہ حالت پیدا کیونکر ہو؟ اب یہ سوال ہوگا کہ یہ حالت کس طرح پیدا ہو تو اس کا جواب اتنا