خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 44
خطبات مسرور جلد پنجم 44 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007 ء دعا اور تدبیر کے ذریعہ سے ہر وقت کوشاں رہتے تھے وہاں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی جسمانی اور مادی ضرورتوں کے لئے بھی آپ دعا اور تدبیر کے لئے ہمہ وقت اور ہر وقت ہر لمحہ تیار رہتے تھے۔اب میں وہ واقعات پیش کرتا ہوں کہ کس طرح آپ مخلوق کی خدمت کیا کرتے تھے اور آپ کے دل میں ان کی روحانی ترقی کے لئے کتنا درد تھا۔حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی بیان کرتے ہیں کہ ایک لالہ شرمیت رائے ہوتے تھے۔قادیان کے رہنے والے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آپ کی بعثت کے ایام سے بھی پہلے آیا کرتے تھے۔اور آپ کے بہت سے نشانات کے وہ گواہ تھے ایک مرتبہ وہ بیمار ہوئے ( تو عرفانی صاحب کہتے ہیں کہ ) مجھے اس وقت قادیان ہجرت کر کے آجانے کی سعادت حاصل ہو چکی تھی۔ان کے پیٹ پر ایک پھوڑا نکلا تھا اور اس دنبل نے ، بہت گہرا پھوڑا تھا، اس نے خطرناک شکل اختیار کر لی تھی۔حضرت اقدس کو اطلاع ہوئی۔آپ خود لالہ شرمپت رائے کے مکان پر تشریف لے گئے جو نہایت تنگ اور تاریک سا چھوٹا سا مکان تھا۔اکثر دوست بھی آپ کے ساتھ تھے ، عرفانی صاحب کہتے ہیں کہ میں بھی ساتھ تھا، جب آپ نے لالہ شرمیت رائے کو جاکے دیکھا تو وہ نہایت گھبرائے ہوئے تھے اور ان کو یقین تھا کہ میری موت آنے والی ہے۔بڑی بے قراری سے باتیں کر رہے تھے، جیسے انسان موت کے قریب کرتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو بڑی تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں اور ایک ڈاکٹر عبداللہ صاحب ہوا کرتے تھے، فرمایا کہ میں ان کو مقرر کرتا ہوں وہ اچھی طرح علاج کریں گے۔چنانچہ دوسرے دن حضرت اقدس ڈاکٹر صاحب کو ساتھ لے گئے اور ان کو خصوصیت کے ساتھ لالہ شرمپت رائے کے علاج پر مامور کیا۔اور اس علاج کا بار یا خرچ لالہ صاحب پر نہیں ڈالا۔اور روزانہ بلاناغہ آپ ان کی عیادت کو جاتے تھے اور جب زخم مندمل ہونے لگے اور ان کی وہ نازک حالت بہتر حالت میں تبدیل ہو گئی۔تو پھر آپ نے وقفہ سے جانا شروع کیا۔اور اُس وقت تک عیادت کا یہ سلسلہ جاری رکھا جب تک وہ بالکل اچھے نہیں ہو گئے۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 169-170) پھر عرفانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ مہر حامد قادیان کے ارائیوں میں پہلا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوا اور اب تک اس کا خاندان خدا تعالیٰ کے فضل سے مخلص ہے۔(اب بھی ہوں گے انشاء اللہ ) مہر حامد علی صاحب نہایت غریب مزاج تھے اور ان کا مکان فصیل قادیان سے باہر اس جگہ واقع تھا جہاں گاؤں کا کوڑا کرکٹ اور روڑیاں جمع ہوتی ہیں۔سخت بدبو اور تعفن اس جگہ پہ ہوتا تھا۔اور خود بھی زمینداروں کے گھر ایسے ہی ہوتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ مکان کی صفائی کا التزام نہ تھا، مویشیوں کا گوبر اور اس قسم کی دوسری چیزیں پڑی رہتی تھیں ، جس کو وہ کھاد کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔بہر حال اسی جگہ وہ رہتے تھے، وہ بیمار ہوئے اور وہی بیماری ان کی موت کا موجب بنی۔رض