خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 43
خطبات مسرور جلد پنجم 43 5 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007 ء فرمودہ مورخہ 02 فروری 2007 (02) تبلیغ 1386 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح مورڈن۔لندن (برطانیہ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں ، میں نے آنحضرت علی یا اللہ کے مخلوق پر رحم کرنے اور اپنے صحابہ کو بھی یہ نصیحت فرمانا کہ عليه وسـ تمہیں بھی رحمان خدا کی رحمانیت سے حصہ لینے کے لئے ایک دوسرے سے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے رحم کا سلوک کرنا چاہئے۔اس حوالے سے بعض روایات پیش کی تھیں۔آج میں آنحضرت صلی اللہ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے چند واقعات بیان کروں گا جن سے آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی مخلوق کے لئے جو جذ بہ رحم تھا اور اس کے لئے بسا اوقات آپ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر بھی جو اظہار فرمایا کرتے تھے، اس کی کچھ حد تک تصویر کشی ہوتی ہے۔آپ کی زندگی اتنی مصروف تھی کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔اسلام کے دفاع میں تن تنہا ساری جنگیں لڑ رہے تھے۔تقریر کے ذریعہ سے، تحریر کے ذریعہ سے، پھر مخالفین کی کارروائیاں بھی آپ کے خلاف بے انتہا تھیں، مقدمات وغیرہ بھی تھے۔یہ سب چیزیں تھیں لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لئے اپنوں اور پرایوں کے لئے اس بات پر کمر بستہ تھے کہ اس کی صفت رحمانیت سے حصہ پا کر میں سراپا رحمت بنا رہوں۔اور اپنے آقا و مطاع علیہ اللہ کے اسوہ کو مکمل طور پر اپنا سکوں۔آپ کی سیرت کا یہ پہلو بھی پوری آب و تاب سے چمکا۔اس لئے کہ آپ اپنے پیدا کرنے والے اور انعاموں اور فضلوں سے نوازنے والے خدا کا شکر گزار بندہ بھی بنا چاہتے تھے ، جس نے آپ کو الہا نا فرمایا تھا کہ " غَرَسُتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِی وَقُدْرَتِی تیرے لئے میں نے رحمت اور قدرت کو اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔“ تذکره صفحه 72 ایڈیشن چهارم مطبوعه ربوه پس یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے جو رحمت کا پودا آپ کے لئے لگایا گیا آپ اس کی شکر گزاری کا اظہار اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم کی نظر ڈال کر نہ کرتے جبکہ اللہ تعالیٰ نے الہاما آپ کو یہ بھی فرمایا تھا۔که يَا أَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى شَفَتَيْكَ اے احمد ! تیرے لبوں پر رحمت جاری ہوئی ہے۔تذکره صفحه 74 73 ایڈیشن چهارم مطبوعه (ربوه پس اس رحمت میں جہاں روحانی بیماروں کے لئے آپ کے دل میں درد پیدا کیا ہوا تھا اور جس کے لئے آپ