خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 422

خطبات مسرور جلد پنجم 422 خطبہ جمعہ 12 اکتوبر 2007ء دعاؤں میں یاد رکھیں۔تمام انسانیت کو دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر تکلیف اور تباہی سے ان سب کو بچائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: اس وقت میں ایک ذکر کرنا چاہتا ہوں جیسا کہ ہمارے میں سے اکثریت کو پتہ ہے کہ ہمارے ایک فدائی کارکن، بڑے فدائی احمدی مکرم ملک خلیل الرحمن صاحب 5 اکتوبر کوگزشتہ جمعہ وفات پاگئے تھے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔بڑے پرانے جماعت کے خدمت کرنے والے کارکنوں میں سے تھے۔جب ایم ٹی اے شروع ہوا ہے اس وقت حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے خطبات، تقریروں اور درسوں کا انگریزی میں ترجمہ کرتے رہے۔پھر میرے بھی خطبات اور تقریروں کے ترجمے انہوں نے کئے۔اور گزشتہ جمعہ کو بھی جمعہ پر جانے کے لئے تیار ہو کر بیٹھے تھے کہ مسجد جا کرتر جمہ کا فرض ادا کرنا ہے لیکن اسی دوران ان کو ہارٹ اٹیک ہوا اور جانبر نہ ہو سکے۔پہلے تو پتہ بھی نہیں لگ رہا تھا کہ تکلیف کیا ہے۔شام کے وقت پتہ لگا کیونکہ اس وقت وہ گھر میں اکیلے تھے۔اکثر اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔بڑے دعا گو تھے اور اعتکاف میں جو بڑا اہتمام کیا جاتا ہے، عام طور پر لوگ بڑے بڑے بستر لے کر آتے ہیں، وہ ایک رضائی یا لحاف لے آتے تھے اور بغیر تکیہ کے اس کو آدھے کو نیچے بچھا لیا کرتے تھے اور آدھے کو اوپر۔یہ ان کے بعض ساتھیوں نے بتایا۔بستر کا کوئی خاص اہتمام نہیں ہوتا تھا کہ مسجد میں اگر آئے ہیں اور دعا کے لئے آئے ہیں تو زیادہ وقت دعاؤں میں ہی گزرے اور درود شریف بڑی کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔یہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے اعتکاف میں ان کے ایک دوست نے بتایا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو ظلم ہے کہ اے خداوند من گنا ہم بخش، ہر وقت ترنم سے پڑھتے رہتے تھے ، گنگناتے تھے۔ان کے ایک دوست نے لکھا ہے کہ انہوں نے کہا جب حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے نفس مطمئنہ پر ایک خطبہ دیا تھا یا درس میں بیان فرمایا تھا تو جب سے میں نے سنا ہے میں تو اس وقت سے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ نفس مطمئنہ نصیب ہو جائے۔اور علاوہ ترجمہ کی خدمت کے شروع میں قائد خدام الاحمدیہ بھی رہے اور اس کے علاوہ نیشنل سیکرٹری سمعی بصری تھے۔سیکرٹری تعلیم تھے۔ریجنل ناظم انصار اللہ بھی رہے۔ریڈنگ جماعت کے صدر کے طور پر خدمات ادا کرتے رہے۔اور گزشتہ سال ان کو یہاں یو کے میں جماعت احمدیہ کے پریس سیکرٹری کا کام بھی میں نے سپرد کیا تھا۔بڑی خوش اسلوبی سے انہوں نے اس کو نبھایا اور ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک نوجوان نے مجھے لکھا کہ باوجود اس کے کہ میں نا تجربہ کار تھا، نوجوان تھا لیکن جب بھی میں نے ان کو کوئی مشورہ دیا تو بڑی عاجزی سے اس کو سنتے تھے۔کبھی یہ نہیں کہا کہ تم کون ہو مشورہ دینے والے۔اگر بہتر ہوتا تھا تو قبول کر لیتے تھے نہیں تو بڑی حکمت سے سمجھا دیا کرتے تھے کہ اس میں یہ یہ نقصانات ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے، ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی اولاد کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے اور سب کو صبر عطا فرمائے۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 2 تا 8 نومبر 2007ء ص 5 تا 9)