خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 313

خطبات مسرور جلد پنجم 313 خطبہ جمعہ 27 جولائی 2007ء پھیلائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔یہ ایک دوسرے کو سلام کرنے کے نظارے اس کے علاوہ بھی عمومی طور پر نظر آنے چاہئیں۔جیسا کہ حدیث میں ہے کہ سلام کو رواج دو، چاہے ایک دوسرے کو جانتے ہو یا نہیں جانتے سلام کریں اور یہی چیز تو ڈ دو تعارف کا باعث بنے گی، ایک دوسرے سے محبت بڑھے گی۔اس سلام کرنے میں ڈیوٹی والے بھی شامل ہیں اور دوسرے شاملین کے لئے بھی ، ان کو بھی حکم ہے کہ ہر ایک کو سلام کرنے میں پہل کرنی چاہئے تا کہ یہ سلامتی کی فضا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی بنے۔کھانا کھلاؤ، ضرورتمندوں کی ضرورتیں پوری کرو۔یہ بھی محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔پھر فرما یا صلہ رحمی کرو۔اپنے رشتوں کا احترام کرو اور پھر فرمایا فرض نمازوں کے علاوہ نفلی نمازوں کی طرف بھی توجہ دو۔ان دنوں تو یہاں اجتماعی انتظام کے تحت رہنے والی اکثریت تو نفلوں کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ایک بہت بڑی تعداد جو گھروں میں رہتی ہے جو یہاں قیام گاہوں میں نہیں رہ رہی ان تین دنوں میں اپنی فرض نمازوں کا بھی اہتمام کریں اور نفلوں کا بھی اہتمام کریں۔بجائے اس کے کہ دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ رات گئے تک باتیں کرتے رہیں اور مجلسیں جماتے رہیں اور وقت پر نہ سوئیں۔جس سے صبح اٹھنا مشکل ہو جائے۔وقت پر سوئیں اور نوافل بھی پڑھیں تا کہ اس جلسہ کے روحانی ماحول سے حقیقی رنگ میں فائدہ اٹھا سکیں اور اللہ تعالیٰ کے رسول اس بات کی ضمانت فرماتے ہیں کہ یہ باتیں پھر تمہیں جنت میں لے جانے والی ہوں گی۔سلام کو رواج دینے کے سلسلے میں صحابہ کا طریق بھی بتادوں۔روایت میں ہے کہ ایک دن ایک صحابی اپنے ایک دوسرے صحابی دوست کے گھر گئے سلام کیا اور کہا کہ آؤ بازار چلیں۔وہ ان کے ساتھ ہو لئے کچھ دیر بازار میں پھر پھرا کر واپس آگئے اور کوئی چیز نہیں خریدی۔چند دنوں کے بعد پھر یہ پہلے صحابی دوبارہ اپنے دوست کے پاس گئے کہ آؤ بازار چلیں۔تو پہلے صحابی نے پوچھا کہ چند دن پہلے بھی آپ گئے تھے اور پھر پھرا کر واپس آگئے تھے اور بازار میں کچھ خریدا تو تھا نہیں تو آج بھی اگر اسی طرح کرنا ہے تو آپ کو بازار جانے کی ضرورت کیا ہے۔کہنے لگے کہ میں تو بازار اس لئے جاتا ہوں کہ لوگ ملتے ہیں وہ ہمیں سلام کہتے ہیں ہم انہیں سلام کہتے ہیں اور اس طرح ہم ایک دوسرے کو سلامتی کی دعاؤں سے نوازتے ہیں اور آپس کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔الادب المفرد باب من خرج يسلم ويسلم علیه حدیث نمبر 1037) صحابہ تو اس طرح سلام کو رواج دیا کرتے تھے اور مختلف طریقے سوچتے تھے۔تو یہ ایک دوسرے کو دعائیں دینا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا بھی عبادتوں کی طرف توجہ دلانے کا باعث بنتا ہے جس کے لئے مومن کو توجہ کرنی چاہئے اور جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے یہ ماحول آپ کے لئے مہیا فرمایا ہے، اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔