خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 274

خطبات مسرور جلد پنجم 274 خطبہ جمعہ 29 جون 2007ء یہ تو اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جو امن اور سلامتی کے ساتھ تمام دنیا کے لوگوں کو ایک ہاتھ پر جمع کر کے امت واحدہ بنانے والا ہے۔اس لئے اس کا تقدس تو ہر حال میں قائم رہنا چاہئے سوائے اس کے کہ دشمن مجبور کرے اور تم پر حملہ کرے تو پھر مجبوری ہے۔اللہ تعالیٰ کا جنگ کی اجازت دینے کا مقصد دنیا کے فساد کو دور کرنا ہے۔اس لئے فرمایا کہ جب فتنہ ختم ہو جائے یا دشمن جنگ سے باز آ جائے تو پھر ایک مسلمان سے کسی بھی قسم کی زیادتی سرزد نہیں ہونی چاہئے۔جب مذہبی آزادی قائم ہوگی تو پھر سیاسی مقاصد کے لئے جنگوں کا کوئی جواز نہیں۔پس یہ ہے اسلامی تعلیم۔اگر اسلام کا مقصد صرف طاقت کے زور سے اسلام کو پھیلانا ہوتا تو یہ کم نہ ہوتا کہ فَاِنِ انتَهَوا فَلا عُدْوَانَ اگر وہ باز آجائیں تو پھر ان پر کسی قسم کی گرفت نہیں ہے۔پھر جنگوں کے بلاوجہ بہانے تلاش نہ کرو۔ہر ایک کو اپنے مذہب کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا حق ہے۔جنگ صرف اس وقت تک ہے جب وہ تمہارے سے جنگ کر رہے ہیں نہ اس لئے کہ ان کے مذہب کو بدلا جائے۔پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا إِنْ يَنتَهُوا يُغْفَرُ لَهُمُ مَا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ يَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الاَوَّلِينَ (الانفال: 39) جنہوں نے کفر کیا ان سے کہہ دے کہ وہ باز آجائیں تو جو کچھ گزر چکا وہ انہیں معاف کر دیا جائے گا۔لیکن اگر وہ (جرم کا اعادہ کریں تو یقیناً پہلوں کی سنت گزرچکی ہے۔پھر فرمایا وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ۔فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيرٌ (الانفال: 40) اور تم ان سے قتال کرتے رہو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین خالصتا اللہ کے لئے ہو جائے۔پس اگر وہ باز آجائیں تو یقینا اللہ اس پر جو وہ عمل کرتے ہیں گہری نظر رکھنے والا ہے۔پھر فرمایا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَوْلَكُمْ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ (الانفال: 41) اور اگر وہ پیٹھ پھیر لیں تو جان لو کہ اللہ ہی تمہارا والی ہے۔کیا ہی اچھا والی اور کیا ہی اچھا مددکرنے والا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان آنحضرت ﷺ کے ذریعہ کروایا کہ ہم یہ جنگ کوئی ظلم و تعدی کی وجہ سے نہیں کر رہے بلکہ یہ تم ہو جنہوں نے ہمیں مکہ میں بھی ظلم کا نشانہ بنایا، اب بھی تم ہم پہ جنگ ٹھونس رہے ہو۔جنگ بدر کے بعد کفار سے کہا جا رہا ہے، جو کہ مکہ سے ہجرت کے تھوڑے عرصہ بعد ہی لڑی گئی تھی۔ابھی تو ان تکلیفوں اور ظلموں اور زیادتیوں کی یادیں بھی تازہ تھیں جو کفار مکہ نے کیں۔مسلمانوں کو جس طرح ظلم کا نشانہ بنایا گیا ، خود آنحضرت ﷺ کو جو دُ کھ اور تکلیفیں دی گئیں ان کی یادیں بھی تازہ تھیں۔تو بدر کی جنگ میں جب انہوں نے حملہ کیا تو کفار کو شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔اس سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے۔ان کو اللہ تعالیٰ پر مدد کا یقین بھی مزید مضبوط ہوا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کروایا کہ مسلمان کا دل بغض اور کینہ اور بدلہ لینے سے بہت بالا ہے۔ہر مسلمان سے یہ توقع کی جاتی