خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 257

خطبات مسرور جلد پنجم 257 25 خطبہ جمعہ 22 جون 2007ء ( فرمودہ مورخہ 22 جون 2007 (22 راحسان 1386 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: جب دنیا میں ہر جگہ فساد پھیلتا ہے اور سلامتی ہر جگہ سے اٹھتی نظر آتی ہے تو جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی اصلاح کے لئے ، اپنے بندوں کو اس فساد سے بچانے کے لئے انبیاء بھیجتا ہے اور جب دنیا سے تقوی بالکل اٹھ جاتا ہے اس وقت بھی انبیاء بھیجے جاتے ہیں اور آج سے چودہ سو سال قبل ہم نے دیکھا کہ جب اس زمین پر سے تقویٰ بالکل اٹھ گیا ، خشکی اور تری ، ہر جگہ پر فساد اپنے عروج پر تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری شریعت آنحضرت ﷺ پر اتار کر دنیا کو اس فساد سے بچانے کے سامان پیدا فرمائے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر قرآن کریم نازل فرما کر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے اسلوب ہمیں سکھائے۔جن کو پہلے انبیاء کے ماننے والے یا تو بھول چکے تھے یا ان پہلے انبیاء کو ان اعلیٰ معیاروں کے احکامات دیئے ہی نہیں گئے تھے۔اور مشرکین کا جہاں تک سوال ہے وہ تو اپنی جہالت میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔تو قرآن کریم نے ہر قسم کے احکامات کے ادا کرنے کے لئے جس اہم ترین نکتہ کی طرف قرآن کریم کے ذریعہ ہمیں توجہ دلائی وہ ہے تقویٰ۔پس تقویٰ ایک انتہائی اہم چیز ہے جس کا ایک انسان کو اگر فہم و ادراک حاصل ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر کار بند ہو سکتا ہے، اس کا پر تو بن سکتا ہے اور ان کو پھیلانے والا بن سکتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس اہم نکتہ پر توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ: قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پر ہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔وجہ یہ کہ تقومی ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے۔اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے۔اور اس قدر تا کید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے۔ایک متقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطر ناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں اور اپنی جلد بازیوں اور بدگمانیوں سے قوم میں تفرقہ ڈالتے اور مخالفین کو اعتراض کا موقع دیتے ہیں۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ (342)