خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 253
253 خطبہ جمعہ 15 / جون 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم سکھایا ہے اور وہ لکھوائے جس کے ذمہ ( دوسرے کا حق ہے اور اللہ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرے اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے۔پس اگر وہ جس کے ذمہ ( دوسرے کا حق ہے، بیوقوف ہو یا کمزور ہو یا استطاعت نہ رکھتا ہو کہ وہ لکھوائے تو اس کا ولی ( اس کی نمائندگی میں ) انصاف سے لکھوائے اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ ٹھہرالیا کرو۔اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (ایسے) گواہوں میں سے جن پر تم راضی ہو۔( یہ ) اس لئے (ہے) کہ اگر ان دو عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد کرا دے۔اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو انکار نہ کریں اور ( لین دین ) خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے اس کی مقررہ میعاد تک ( یعنی مکمل معاہدہ) لکھنے سے اکتاؤ نہیں ، تمہارا یہ طرز عمل خدا کے نزدیک بہت منصفانہ ٹھہرے گا اور شہادت کو قائم کرنے کے لئے بہت مضبوط اقدام ہوگا اور اس بات کے زیادہ قریب ہوگا کہ تم شکوک میں مبتلا نہ ہو۔( لکھنا فرض ہے ) سوائے اس کے کہ وہ دست بدست تجارت ہو جسے تم ( اسی وقت ) آپس میں لیتے دیتے ہو۔اس صورت میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اسے نہ لکھو اور جب تم کوئی ( لمبی ) خرید وفروخت کرو تو گواہ ٹھہرا لیا کرو اور لکھنے والے کو اور گواہ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے۔اگر تم نے ایسا کیا تو یقیناًیہ تمہارے لئے بڑے گناہ کی بات ہوگی اور اللہ سے ڈرو جبکہ اللہ ہی تمہیں تعلیم دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔یہ ایک انتہائی اہم حکم ہے۔لین دین کی وجہ سے معاشرے میں جھگڑوں اور فسادوں کو دُور کرنے کا اسلام کا ہر حکم اس کے خدا کی طرف سے ہونے اور کامل اور مکمل دین ہونے کی دلیل ہے۔اسی طرح اب یہ حکم بھی ہے کہ آپس کے لین دین کے معاملات کو لکھ لیا کرو۔یہ حکم اس زمانے میں نازل ہوتا ہے جبکہ تحریر کا رواج ابھی اپنی ابتدائی حالت میں تھا، بلکہ انتہائی ابتدائی حالت میں تھا۔اور عربوں کا تو اس طرف بہت کم رجحان تھا۔آج ترقی یافتہ ملکوں کو یہ فخر ہے کہ ہم نے معاہدات کو محفوظ کرنے کے کتنے پکے طریقے بنالئے ہیں۔لیکن پھر بھی بڑے بڑے دھو کے ہو جاتے ہیں لیکن اس ایک آیت میں دو دفعہ یہ بیان کر کے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، ایک مومن کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارے یہ سارے دنیاوی معاملات بھی اُس وقت صحیح انجام کو پہنچ سکتے ہیں جب اللہ کا تقویٰ ہو۔پھر اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے بات کی گئی ہے تو اس لئے کہ ایک مسلمان مومن کا ہر فعل اللہ تعالیٰ کی خاطر ہوتا ہے اور ہونا چاہئے اور جو کام اس سوچ کے ساتھ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر کرنا ہے، اس میں دھوکہ دہی کا پہلو نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اس لئے دیا کہ لین دین کرتے وقت تو احساس نہیں ہوتا اور ایک دوسرے کے بعض اوقات بڑے قریبی تعلقات ہوتے ہیں اس لئے لین دین کر لیتے ہیں۔بڑے اعتماد کی باتیں ہوتی ہیں۔لیکن کچھ عرصہ بعد یہی اعتماد، بے اعتمادی میں بدل جاتا ہے۔یہی محبت نفرتوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور پھر بعض دفعہ مقدموں تک نوبت آجاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ان تعلقات کو ہمیشہ محبت اور پیار کے دائرے میں رکھنے کے لئے فرمایا کہ قرض کی شرطیں