خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 242

242 خطبہ جمعہ 8 /جون 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم حاصل کرتے ہیں۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ اعلان جنگ کرتا ہے اور جن کے خلاف اللہ تعالیٰ اعلان جنگ کر دے ان کا نہ اس دنیا میں کوئی ٹھکانہ ہے اور آخرت میں جو ان کی سزا ہے وہ تو ہے ہی۔پھر سود کی وجہ سے معاشرے کا امن کس طرح برباد ہو رہا ہے۔جو غریب ہے وہ غربت کی چکی میں پستا چلا جاتا ہے۔پینے والا اس سود کے پیسے سے اپنی تجوریاں بھر رہا ہوتا ہے۔اور بظاہر بے تحاشہ پیسہ کمانے والا جو شخص ہے وہ اپنے خزانے بھر رہا ہوتا ہے، لیکن دل کا چین اور سکون ان میں نہیں ہوتا۔کئی لوگ ہیں جو لکھتے ہیں اور کہتے ہیں بلکہ پاکستان میں میں نے دیکھے بھی ہیں کہ پیسوں کے باوجو د راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔تو یہ عموماً سود ہی ہے جس نے ایک ملک کے معاشرے میں ملکی سطح پر بھی انفرادی سطح پر بھی پیسے کو ایک خاص طبقے کے گرد منتقل کر دیا ہے، ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔اور عموماً امیر ملکوں میں بھی جہاں بظا ہرا چھے حالات ہیں، اسی سود کی وجہ سے تقریبا ہر شخص یا اکثریت قرض کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔اس کو محسوس نہیں کرتے اور اپنی زندگی میں اس سے با ہر نہیں نکل سکتے۔گزشتہ دنوں میں یہاں ایک پروگرام تھا، یونیورسٹی میں ایک فنکشن تھا۔یہ بات میں نے وہاں کی اور بتایا کہ یہ بھی ایک طرح کی غلامی ہے تو یو نیورسٹی کے چانسلر سمیت بہت سے لوگوں نے اس کی تائید کی اور ان لوگوں کا اس تائید کے بغیر گزارا نہیں ہے۔یہ خدا کا کلام ہے جو سچائی سے پُر ہے اور اس کے احکامات پر عمل کئے بغیر دنیا کی نجات ہوہی نہیں سکتی اور جس طرح میں نے کہا سود غلامی کی ایک قسم ہے اور غلامی میں کبھی محبتیں نہیں پنپ سکتیں۔ہمیشہ نفرتیں اٹھیں گی اور امن بر باد ہوگا۔پھر ہمارے غریب ملک ہیں کہ جہاں سود پر قرضے لیتے ہیں عموماً سندھ وغیرہ میں تو ہندو اس کا روبار میں ہمیشہ زیادہ ہے لیکن بعض مسلمان بھی یہ کام کرتے ہیں اور مخصوص لوگ ہیں جو یہ کام کرتے ہیں اور یہ جو سود پر قرضے ہیں یہ تمام عمر اس قرض لینے والے کو بلکہ ان کی نسلوں کو بھی کبھی سراٹھانے نہیں دیتے۔ایک امریکن اکانومسٹ ہے اس نے ہندو پاکستان کی ریسرچ پہ لکھا تھا کہ یہ لوگ ایسے ہیں جو بظاہر زمیندار بھی ہیں، جائیدادوں والے بھی ہیں لیکن ان کا حال یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہیں قرض لے کر اور زندگی گزارتے ہیں قرض لے کر اور اس دنیا سے جب جاتے ہیں تب بھی قرض ہوتا ہے جو آگے اولادوں کو ٹرانسفر ہو جاتا ہے۔تو یہ سود ہی ہے جو ان کو اس مشکل میں گرفتار کئے ہوئے ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عمل کرنے والے ہوں تو بجائے یہ کہ نسلیں تک قرض کی زنجیروں میں جکڑیں اور پروان چڑھیں اور پھر آگے اگلی نسلوں کو ٹرانسفر کریں، بے چینی اور بے چارگی سے زندگی گزاریں وہ اس سے بچ سکتے ہیں۔اور جب لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے ، قرضوں میں جکڑے ہوتے ہیں تو پھر یہ کبھی نیک جذبات دوسروں کے لئے پیدا کرنے والے نہیں ہو سکتے خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جن کے یہ مقروض ہوتے ہیں۔پھر غریب ملکوں میں جن میں بہت سے مسلمان ممالک شامل ہیں مثلاً پاکستان ہے ویسے تو اسلام کا بہت نام