خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 190
خطبات مسرور جلد پنجم 190 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا ہے باوجود بیماری کے خلیفہ وقت کی طرف سے آمدہ ہدایت پر اگر ضرورت ہوتی تو خود جا کے تعمیل کرواتے۔گزشتہ دنوں ڈیڑھ سال پہلے جو زلزلہ آیا، اس کی وجہ سے مسجد اقصیٰ کو بھی کافی نقصان پہنچا تھا۔تو مسجد کی مرمتیں ہو رہی تھیں۔یہاں سے انجینئر جاتے رہے ہیں۔وہاں کی زمین کی ٹسٹنگ (Testing) کے لئے کہ مزید کیا جائزہ لینا ہے، کھدائی کر کے دیکھنی تھی۔یہ کام میاں صاحب کے بغیر بھی ہوسکتا تھا۔لیکن خود وہاں موقع پر پہنچے اور اپنی نگرانی میں یہ کروایا اور جوانجینئر یہاں سے گئے ،بڑا انس کے پھر ان انجینئر صاحب کو میرے متعلق کہا کہ انہیں یہ بتا دینا کہ میں وہاں موجود تھا۔یہ بتا دینا کہ مجھ سے چلا نہیں جاتا تھا لیکن اس کے باوجود میں یہاں آکے کھڑا ہو گیا۔یہ نہیں کہ کوئی اظہار تھا کہ دیکھو میں بیماری کے باوجود یہاں آگیا ہوں۔احسان کے رنگ میں نہیں بلکہ اس لئے کہ خلیفہ وقت کی دعائیں میرے ساتھ ہو جا ئیں گی۔تو یہ تھا ان کا خلافت سے تعلق۔گزشتہ دنوں چند ماہ پہلے باوجود بیماری کے کشمیر کا بڑا تفصیلی دورہ کیا اور ہر جگہ خلافت سے تعلق کے بارے میں لوگوں کو تلقین کی۔پھر یہ ہے کہ لوگ آپ کو دعا کے لئے جو خطوط لکھتے تھے، آپ کے نام سے خطوط لکھے جاتے تھے لیکن اگر یہ سمجھتے تھے کہ ایسے خطوط خلیفہ وقت کے پاس جانے چاہئیں تو یہاں بھجوادیا کرتے تھے تا کہ ان لوگوں کے لئے دعا ہو جائے اور یہاں سے بھی جواب چلا جائے۔مجھے انہوں نے لکھا کہ پچھلے دنوں میں بیماری کچھ زیادہ ہوگئی تھی ھیچ کام نہیں ہو رہا اس لئے کچھ عرصہ کے لئے کسی کو مقرر کر دیں، ایک ذمہ داری سپرد کر دیں۔اس پر میں نے ان کو لکھا تھا کہ کسی کے سپرد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بعض کام ہیں جس سے چاہے لے لیا کریں، ناظر اعلیٰ آپ ہی رہیں گے۔اب میرا خیال ہے کہ اس کے بعد اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر بھی یہ کام کرتے رہے ہیں اور ایک معاملے کی رپورٹ ابھی چند دن پہلے مجھے ان کی وفات کے بعد آئی، اس پر ان کے دستخط تھے اور 25 را پریل کی تاریخ تھی۔یعنی اس وقت بھی جس دن یہ ہسپتال داخل ہوئے ہیں اور شدید انفیکشن تھی ، بخار 05-104 تک پہنچا ہوا تھا۔لیکن وہ ساری رپورٹ دیکھی اور اس پر دستخط کئے۔اللہ تعالیٰ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فرزند اور آپ کی نشانی کے درجات بلند فرمائے جس نے اپنے درویشی کے عہد کو نبھایا اور خوب نبھایا۔قدرتی طور پر ان کی وفات کے ساتھ مجھے فکر مندی بھی ہوئی کہ ایک کام کرنے والا بزرگ ہم سے جدا ہو گیا۔وہ صرف میرے ماموں نہیں تھے بلکہ میرے دست راست تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں میرا سلطان نصیر بنایا ہوا تھا۔تو فکر مندی تو بہر حال ہوئی لیکن پھر اللہ تعالیٰ کے سلوک اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو دیکھ کر تسلی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ کی طرح اپنے فضل سے یہ خلا بھی پر فرمائے گا اور انشاء اللہ پہلے سے بڑھ کر قربانی کرنے والے سلطان نصیر عطا فرمائے گا اور فرماتا ہے۔