خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 191

خطبات مسرور جلد پنجم 191 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء اللہ تعالیٰ درویشوں کی اولادوں کو اور قادیان کے رہنے والے ہر فرد کو ان قربانی کرنے والے درویشوں کی یادیں زندہ رکھنے کی توفیق دے اور اس وقت جو چند ایک درویشان ان کے پاس رہ گئے ہیں ، ان کی خدمت کی بھی ان کو توفیق دے۔قادیان میں رہنے والا ہر احمدی اس مقام کو سمجھے جو دیار مسیح میں رہنے والے کا ہونا چاہئے۔جب بزرگ اٹھتے ہیں تو نئی نسل کی ذمہ داریاں بڑھتی ہیں اور جو زندہ قومیں ہیں ان کی نئی نسلیں پھر ان کی ذمہ داریوں کو با حسن نبھانے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ قادیان کے رہنے والے سب واقفین زندگی اور عہدیداران پہلے سے بڑھ کر پیار محبت اور بھائی چارہ کا ایک دوسرے سے سلوک کریں گے اور یہ سلوک کرتے ہوئے نیکی اور تقویٰ میں ترقی کریں گے۔قادیان کا رہنے والا ہر احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی اولا د ہونے کے ناطے اس کا حق ادا کرے گا اور جس طرح ہمارے یہ بزرگ اُن جگہوں پر سجدہ ریز ہوئے جہاں مسیح الزمان نے سجدے کئے اور اُن جگہوں کو اپنی دعاؤں سے پر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ سے ان جگہوں میں جماعت کی ترقی کے وعدے فرمائے تو یہ لوگ ( نئی نسل ) جو وہاں رہنے والے ہیں یہ بھی ان جگہوں پہ جائیں گے اور پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہوں گے، دعا ئیں کریں گے اور اس کا فضل حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور مجھے ان فکروں سے آزاد کریں گے کہ قادیان میں نیکی اور تقویٰ پر چلنے والے اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے والوں کی کمی ہو رہی ہے۔بلکہ یہی خوشی کی خبریں پہنچیں گی کہ تقوی میں ترقی کرنے والے بڑھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو اس کی توفیق دے۔دنیا کی جماعتوں پر بھی قادیان کا حق ہے کہ اس بستی کے رہنے والوں کے لئے ہر احمدی دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ مسیح کی بستی کا حق ادا کرنے والے پیدا فرماتا رہے۔حضرت میاں صاحب کی بیگم صاحبہ کیلئے بھی دعا کریں۔وہ بھی بیمار رہتی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہمت اور حوصلہ دے اور یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔یہ بھی بڑی با برکت وجود ہیں۔انہوں نے جماعت کی خواتین کو عورتوں کو اکٹھا کرنے میں ، Organize کرنے میں، ان سے ہمدردیاں کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے اور کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو صحت سلامتی والی زندگی عطا فرمائے۔ان کے بچوں کو بھی اپنے بزرگ والد کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔گو کہ ان میں سے کوئی بھی قادیان میں نہیں ہے۔بچیاں شادی ہو کے پاکستان چلی گئیں ، اب وہ پاکستانی شہریت رکھتی ہیں ، بیٹا اُن کا امریکہ میں ہوتا ہے لیکن جہاں بھی ہیں اپنے عظیم باپ کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں اور ان خصوصیات کے حامل بنے کی کوشش کریں جو ان کے باپ یں تھیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ میں فرمایا :