خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 132

132 خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کے تحت یہ احسان اور انعامات ہیں جو بندوں پر وہ کرتا ہے ، جیسا کہ ہمیں پتہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان صفات کا رنگ بندوں کو بھی اپنے اوپر لاگو کرنا چاہئے ، چڑھانا چاہئے اور جیسے کہ ہم جانتے ہیں آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ ان صفات کا ، اللہ تعالیٰ کی جو بھی صفات ہیں، ان کا اظہار اپنی ذات سے کرنے والے تھے۔ایک دو مثالیں اب میں اس کی دیتا ہوں کہ کس طرح غلبہ اور قدرت ہونے کے باوجود جب آپ تعرب کے بادشاہ بن چکے تھے آپ دشمنوں سے بھی احسان کا سلوک فرماتے تھے۔عکرمہ بن ابو جہل کا واقعہ بڑا مشہور ہے۔آنحضرت ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا اور اس کی وجہ سے یہ تھی کہ یہ خود بھی اور ان کا والد ابو جہل تھا اس نے بھی مسلمانوں کو بڑی تکلیف پہنچائی تھی اور اس میں بڑی شدت اختیار کرنے والوں میں سے تھا۔جب مکرمہ کو یہ خبر لی کہ آنحضرت ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے۔تو یمن کی طرف بھاگ گیا۔اس کے پیچھے پیچھے اس کی بیوی جو اس کی چازاد بھی تھی اور حارث بن ہشام کی بیٹی تھی ، اسلام قبول کرنے کے بعد گئیں اور کشتی پر سوار ہونے سے پہلے عکرمہ کو جالیا اور پکڑ لیا اور اس کو جا کر کہا کہ میں تیرے پاس آئی ہوں اے میرے چا زاد! ( خاوند کا حوالہ نہیں دیا، چچا زاد کا حوالہ دیا ہے ) میں تیرے پاس سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے اور سب سے زیادہ نیک سلوک کرنے والے اور لوگوں میں سب سے زیادہ بہتر کے پاس سے آئی ہوں۔تم اپنے آپ کو برباد نہ کرو۔میں نے تمہارے لئے امان طلب کر لی ہے۔جانے سے پہلے اس کے لئے آنحضرت ﷺ سے امان طلب کر کے گئی تھیں کہ اگر میں اُسے لے آؤں تو۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے۔اگر وہ آ جائے اور اطاعت میں رہے گا تو ٹھیک ہے۔تو خیر باتیں ہوتی رہیں بڑی مشکل سے مان کر عکرمہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس آئے۔تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اے محمد نے میری بیوی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے مجھے امان دے دی ہے۔آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ درست کہتی ہے کہ تمہیں امان دی گئی ہے۔تو اس بات کو سن کر عکرمہ نے کلمہ پڑھ دیا - اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ۔پھر عکرمہ نے شرم کے باعث اپنا سر جھکا لیا۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اے عکرمہ ! ہر وہ چیز جو میری قدرت میں ہے اگر تم اس میں سے کچھ مجھ سے مانگو تو میں تم کو عطا کر دوں گا۔جتنا بھی ملکیت کا دائرہ ہے، جو کچھ میری قدرت میں ہے، مانگو میں تمہیں دوں گا۔عکرمہ نے کہا کہ مجھے میری وہ تمام زیادتیاں معاف کر دیں جو میں آپ سے کرتا رہا ہوں۔اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللهُمَّ اغْفِرْ لِعِكْرِمَةَ كُلَّ عَدَاوَةٍ عَادَانِيهَا أَوْ مَنْطِقٍ تَكَلَّمَ بِہ اے اللہ! عکرمہ کو ہر وہ زیادتی جو وہ مجھ سے کرتا رہا ہے بخش دے یا آپ نے یہ فرمایا کہ اے اللہ! عکرمہ میرے بارے میں جو بھی کہتا رہا ہے اسے بخش دیا۔(السيرة الحلبيه لعلامه ابو الفرج نورالدین باب ذکر مغازيه فتح مکه شرفها الله تعالیٰ جلد 3 صفحه 132 دار الكتب العلمية )