خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 87

خطبات مسرور جلد پنجم 87 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007ء ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا آئندہ ایسا نہ کرنا اگر کسی کے بارے میں کہوں کہ میں جنازہ پڑھاؤں گا۔مجھے بتا دینا تو بتا دیا کرو۔ویسے بھی بتانا چاہئے کہ اگر تم میں سے کسی کا کوئی عزیز فوت ہو جائے تو جب تک مجھے آگاہ نہ کرو گے میں اس وقت تک کیسے آسکوں گا۔میری دعا فوت شدہ کے لئے باعث رحمت ہے۔پھر آپ قبر پر تشریف لے گئے اور چار تکبیریں کہیں اور نماز جنازہ پڑھائی۔(سنن ابن ماجه كتاب الجنائز باب ما جاء في الصلواة على القبر حدیث نمبر (1528 پھر بظاہر چھوٹی چھوٹی نیکیوں کا ذکر کر کے اپنی اُمت کو ان نیکیوں کے بجالانے کی طرف توجہ دلاتے تھے تا کہ وہ جس ذریعہ سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر سکیں اور اس کی رحمت سے حصہ لے سکیں ، لے لیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے راستہ میں ایک خار دار درخت کی شاخ پڑی دیکھی تو اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں اس کو ضرور ہٹا دوں گا تا اس سے مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچے۔اس پر اس کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔(صحیح مسلم كتاب البر والصلة باب فضل ازالة الاذى عن الطريق حديث نمبر (6565 اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کے اجر کو بھی خالی نہیں چھوڑا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے رحمت کا سلوک فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ میں ہر عمل کی جزا دوں گا تو اس عمل کو بھی خالی نہیں چھوڑا۔اللہ تعالی کوئی چھوٹی سے چھوٹی نیکی یا بڑی سے بڑی نیکی بغیر جزا کے نہیں چھوڑتا۔پھر ایک حدیث میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی راستے پر چلا جار ہا تھا اس کو شدید پیاس محسوس ہوئی اسے ایک کنواں نظر آیا۔اس نے اُس میں اتر کر پانی پیا۔جب وہ باہر نکلا تو اس نے ایک کتے کو دیکھا جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی شدت کی وجہ سے مٹی چاٹ رہا تھا۔اس شخص نے کہا کہ اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس لگی ہے جس طرح مجھے لگی ہے۔وہ دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے کو پانی سے بھر کر اپنے منہ کے ذریعہ سے اس کو پکڑا اور کتے کو اس سے پانی بلایا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کی قدر دانی کی اور اسے بخش دیا۔صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہمارے لئے جانوروں میں بھی اجر ہے؟ تو آپ نے فرمایا ہر جاندار میں اجر مقدر ہے۔(صحیح بخاری کتاب الادب باب رحمة الناس والبهائم حديث نمبر (6009 پس کوئی بھی عمل ضائع نہیں ہوتا۔ہر عمل جو نیک نیتی سے کیا جائے اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت کے صدقے ضرور است کا بدلہ دیتا ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔مختلف طریقوں میں مجالس میں جب بیٹھے ہوتے تھے، آپ تشریف فرما ہوتے تھے، لوگ سوال کرتے تھے آپ جواب دیتے تھے اور تربیتی نصیحت بھی فرماتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں